صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 75 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 75

صحيح البخاری جلد ۴ ۷۵ ۳۴- كتاب البيوع یعنی ان لوگوں میں سے تھا جو مسلمانوں سے برسر پیکار تھے۔ یہ بیع دار السلام میں اور بحالت امن ہوئی ۔ اس حوالے سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ بحالت جنگ اور بحالت صالح حربی اور غیر حربی میں فرق اس استدلال سے مذکورہ بالا مسئلہ کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ روایت نمبر ۲۱۰۰ یہاں مختصر بقدر ضرورت نقل کی گئی ہے لیکن کتاب المغازی باب ۵۴ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَيَوْمَ حُنَيْنٍ ۔۔ روایت نمبر ۴۳۲۱ میں مفصل منقول ہے۔ باب ۳۸ : فِي الْعَطَّارِ وَبَيْعِ الْمِسْكِ عطار اور مشک کے بیچنے سے متعلق بیان ۲۱۰۱: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۲۱۰۱: موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ عبد الواحد نے ہمیں بتایا کہ ابو بردہ بن عبداللہ نے ہم ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے ابو بردہ بن أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِيْهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ابوموسی سے سنا۔ وہ اپنے باپ (حضرت ابو موسیٰ ) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے کہ انہوں نے کہا: وَسَلَّمَ مَثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھے ہم نشین اور وَالْجَلِيسِ السَّوْءِ كَمَثَلِ صَاحِبِ برے ہم نشین کی مثال ایسی ہے جیسی مشک والے کی الْمِسْكِ وَكِيْرِ الْحَدَّادِ لَا يَعْدَمُكَ مِنْ (دكان) اور لوہار کی بھٹی ۔ مشک والے سے تو ( دو صَاحِبِ الْمِسْكِ إِمَّا تَشْتَرِيْهِ أَوْ تَجِدُ باتوں میں سے کسی ایک سے خالی نہیں رہے گا یا تو رِيحَهُ وَكِيْرُ الْحَدَّادِ يُحْرِقُ بَيْتَكَ * اس سے خریدے گا ، یا اس کی خوشبو پائے گا۔ اور لوہار أَوْ ثَوْبَكَ أَوْ تَجِدُ مِنْهُ رِيحًا خَبِيثَةً کی بھٹی یا تو تیرا بدن اور تیرا کپڑا جلا۔ را کپڑا جلائے گی یا تو اُس طرفه: ٥٥٣٤ : سے بد بو پائے گا۔ تشريح : فِي الْعَطَارِ وَبَيْعِ الْمِسْكِ من برا اور عامين الى رباع في مثله وغیرہ مشک کی تجارت مکروہ سمجھتے ہیں کیونکہ وہ ہرن کے جسم کا ایک نا پاک حصہ ہے اور اُسے ہلاک کر کے کستوری حاصل کی جاتی ہے۔ لیکن ان کا یہ فتوی برقرار نہ رہا بلکہ مشک وغیرہ کی خرید و فروخت با تفاق جائز قرار دی گئی ہے۔ (عمدۃ القاری جزء اصفحہ (۲۲) فتح الباری جزء ۴ صفحہ ۴۱۰ ) شارحین کا خیال ہے کہ اس اختلاف کی وجہ سے مشک اور عطریات اور کستوری کی بیچ کے تعلق کا عمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ بَدَنگ ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱ اصفحہ ۲۲۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔