صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 76
صحيح البخاری جلدم 21 ۳۴- كتاب البيوع میں باب ۳۸ قائم کیا گیا ہے۔ان کا یہ استدلال اسی ضرب المثل سے ہے جو روایت نمبر ۲۱۰ میں مذکور ہے۔اگر اس قسم کی اچھی مثالوں سے مسئلہ مستنبط ہوسکتا ہے تو پھر لوہار کی بھٹی والی مثال سے یہ استدلال ہونا چاہیے کہ لوہاری پیشہ مکروہ ہے۔حالانکہ باب ۲۹ میں گزر چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض صحابہ کرام ایسے پیشہ ور تھے۔اگر امام بخاریؒ کا طریق تدوین و تہذیب دیکھا جائے تو شارحین کی مشار الیہ رائے قریب قیاس ہے کہ اس باب میں مذکورہ بالا فقرہی اختلاف بھی مدنظر ہے۔چنانچہ اس کے بعد دوباب اور قائم کئے گئے ہیں جن میں پسندیدہ و نا پسندیدہ تجارت اور پیشہ اختیار کرنے یا نہ کرنے کے بارہ میں ارشاد نبوی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور یہی اصل مقصود ہے اور فقہی اختلاف کا ذکر ضمنی ہے۔مذکورہ بالا مثال میں جو نیک سبق مضمر ہے، اس کا تعلق اچھی یا بری صحبت کے نیک یا بد اثر سے تعلق رکھتا ہے اور یہ مثال ہر قسم کے کاروبار اور اس کے نیک و بد نتائج پر حاوی ہے۔باب ۳۹ میں حجام یعنی پچھنے لگانے والے کا ذکر بھی ضمنی ہے اور یہ باب اس غرض سے قائم نہیں کیا گیا کہ اس کا پیشہ پسندیدہ ہے جیسا کہ ابن منیر نے اس بارے میں صراحت سے ذکر کیا ہے کہ ان کی غرض یہ نہیں اور یہ رائے علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے بھی قبول کی ہے۔(فتح الباری جزء ہم صفحہ ۴۱۰) باب ۲۵ روایت ۲۰۸۶ میں گزر چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خون وغیرہ کی اجرت سے منع فرمایا ہے۔یہ ممانعت تحریمی نہیں بلکہ کراہیت کی ہے۔حدیث محولہ بالا میں پیشوں کا ذکر ہے جو ادنیٰ قسم کے ہیں اور وہ حرام اور مکروہ نہیں ،عند الضرورت اختیار کئے جاسکتے ہیں۔مگر ایک مسلم کو ذرائع معاش اختیار کرنے میں اپنا نصب العین اعلیٰ رکھنا چاہیے پیشہ ہو یا تجارت۔باب ۴۰ بھی اسی قسم کی کراہیت کے تعلق میں قائم کیا گیا ہے۔غرض یہ تینوں ابواب ایک ہی تسلسل میں ترتیب دیئے گئے ہیں۔بَاب ٣٩: ذِكْرُ الْحَجَّامِ حجام یعنی پچھنے لگانے والے کے ذکر میں ( جو کچھ بیان ہوا ہے ) ۲۱۰۲: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۱۰۲ عبد الله بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَس مالک نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے حمید سے، حمید نے ابْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَجَمَ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ابوطیبہ نے ( جو حضرت محیصہ بن مسعود أَبُو طَيْبَةَ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ کے غلام تھے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پچھنے وَسَلَّمَ فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعِ مِّنْ تَمْرٍ وَأَمَرَ لگائے۔آپ نے انہیں ایک صاع کھجور دینے کے لیئے أَهْلَهُ أَنْ يُخَفِّفُوْا مِنْ خَرَاجِهِ۔فرمایا اور اُن کے مالکوں سے کہا کہ ان سے جو رقم وصول کی جاتی ہے، اُس سے کچھ کم کر دیں۔اطرافه ۲۲۱۰ ،۲۲۷۷، ٢٢۸۰، ٢٢٨١، ٥٦٩٦