صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 451
صحيح البخاری جلد ۴ ۴۵۱ ٤٦- كتاب المظالم نوبت به نوبت چکر دیتے رہتے ہیں ( تا کہ وہ عبرت حاصل کریں ) اور تاکہ اللہ ( امتحان کے ذریعے ) ان لوگوں کو ظاہر کر دے جو ایمان لے آئے ہیں اور تم میں۔ ئے ہیں اور تم میں سے بعض کو شہید بن شہید بنائے اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ اور تا کہ جو مومن ہیں انہیں اللہ پاک وصاف کر کے نکھار دے اور کافروں کو ہلاک کر دے۔ کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ حالانکہ ابھی اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو نمایاں نہیں کیا جو مجاہد ہیں اور نہ انہیں جو صابر ہیں۔ اور اسی تعلق میں فرماتا ہے: وَلِيَبْتَلِيَ اللَّهُ مَا فِي صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ) (آل عمران : ۱۵۵) تاکہ اللہ ابتلاؤں کے ذریعہ سے جو تمہارے سینوں میں ہے، اس کا امتحان لے۔ اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے پاک اور صاف کر کے کندن بنادے۔ اور اللہ سینوں کی باتوں کو خوب جانتا ہے۔ ظالموں کے ذریعے سے جو ابتلاء مومنوں کے لئے دنیا میں مقدر ہے۔ وہ ایک سنت اللہ ہے جو دو مقصدا۔ ہے جو دو مقصد اپنے اندر رکھتی ہے۔ رکھتی ہے۔ ایک مومنوں کی تنقيح و تمحیص (یعنی نکھارنا ) اور دوسرا ظالموں کو انکھارنا ) اور دوسرا ظالموں کو سزا جو اُسی وقت نمایاں طور پر ظاہر ہوتی ہے جب ظلم انتہاء اہر ہوتی ہے جب ظلم انتہاء تک پہنچتا ہے اور اس کا ظہور مہور ایسے رنگ سے ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کے لئے عبرت کا نمونہ بن جاتا ہے۔ غ بن جاتا ہے۔ غرض دنیا اور آخرت میں قو میں قصاص مظالم کا جو قانون جاری ہے وہ حق و حکمت پر مبنی ہے۔ مذکورہ بالا دونوں باب بطور تمہید ہیں اور روایت نمبر ۲۴۴۱ کے آخر میں ایک اور آیت کا حوالہ دیا گیا ہے۔ جو یہ ہے: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا * أُولَئِكَ يُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّهِمْ وَيَقُولُ الْأَشْهَادُ هَؤُلَاءِ الَّذِيْنَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ وَلَا لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الظَّلِمِينَ الَّذِيْنَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا وَهُمُ بِالْآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ (هود:۲۰،۱۹) اور اُس سے بڑھ کر اور کون ظالم ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ ایسے لوگ اپنے رب کے سامنے پیش کئے جائیں گے۔ اور گواہ کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا۔ سو ان ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچنے والی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں اور اُس میں کبھی پیدا کرنا چاہتے ہیں اور یہ اور یہی لوگ آخرت کے منکر ہیں۔ اس آیت میں ظلم اپنے وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے اور بتایا گیا ہے کہ قیامت کے روز ظالموں سے پرسش ہوگی اور وہ سزا پائیں گے۔ خلاصہ یہ کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں میں قصاص ہوگا ۔ خدا تعالیٰ کی طرف ناحق باتوں کا منسوب کرنا بھی ظلم کہلاتا ہے کیونکہ ظلم کے معنے ہیں کہ کسی بات کو بر حل نہ رکھنا۔ محولہ بالا روایت دیکھئے: کتاب التوحید باب ۱۳۶ روایت نمبر ۷۵۱۴ و کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ ہود باب ۴ روایت نمبر ۴۶۸۵ و کتاب الادب باب ۶۰ روایت نمبر ۶۰۷۰ ۔ بَاب : لَا يَظْلِمُ الْمُسْلِمُ الْمُسْلِمَ وَلَا يُسْلِمُهُ مسلمان مسلمان پر ظلم نہ کرے اور نہ وہ اسے (کسی ظالم کے ) سپرد کرے ٢٤٤٢: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۲۴۴۲: یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے