صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 452 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 452

صحيح البخاري - جلد ۴ ۴۵۲ ٤٦- كتاب المظالم شِهَابٍ أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ ابن شہاب سے روایت کی کہ سالم نے انہیں خبر دی کہ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا بھائی ہے، نہ خود اس پر ظلم کرے اور نہ اسے (ظالم کے) يُسْلِمُهُ وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ سپرد کرے۔ اور جو شخص اپنے بھائی کے کام میں مشغول اللهُ فِي حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ ہوگا، اللہ بھی اس کے کام میں مشغول رہے گا۔ اور جس كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ نے کسی مسلمان سے کوئی تکلیف دور کی اللہ یوم قیامت يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللهُ کی تکالیف میں سے ایک تکلیف اُس سے دور کرے گا۔ اور جس نے ایک مسلمان کی پردہ پوشی کی ، اللہ بھی يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔ طرفه: ٦٩٥١۔ قیامت کے روز اُس کی پردہ پوشی کرے گا۔ تشريح : لَا يَظْلِمُ الْمُسْلِمُ الْمُسْلِمَ وَلَا يُسْلِمُهُ: معاشرہ اسلامیہ سےتعلق رکھنے والے مسلم افراد کے ایک دوسرے پر پانچ حق ہیں۔ اول : وہ کسی کی حق تلفی نہ کریں یا کسی کا حق غصب نہ کریں ۔ دوم : کسی ظالم کو ان پر ظلم نہ کرنے دیں ۔ سوم : ایک دوسرے کی حاجت روائی کرنے میں سرگرم عمل رہیں۔ اس بارہ میں حضرت ابو ہریرہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ۔ (مسلم، كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار ، باب فضل الاجتماع على تلاوة القرآن وعلى الذکر اللہ اپنے بندے کا مددگار رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کا مددگار رہے۔ چہارم : مبتلائے مصیبت و غم کو رہائی دلائیں۔ پنجم : عیب کی پردہ پوشی کریں۔ یہ حقوق منفی و مثبت دونوں پہلوؤں سے معاشرہ کے تعلقات کی سلامتی اور استواری کے لئے از بس ضروری ہیں۔ امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ کی جو روایت اس بارہ میں نقل کی ہے اس میں یہ الفاظ بھی ہیں : وَلَا يَحْقِرُهُ۔ (مسلم، كتاب البر والصلة والآداب۔ باب تحريم ظلم المسلم) کہ وہ اپنے بھائی کو حقیر نہ سمجھے اور نہ اُس کی ہتک کرے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں جو خطبہ منی کے مقام پر دیا، اس میں صراحت ہے کہ مسلمانوں کی جانیں اور آبروئیں اور ان کے اموال ابدالاباد تک ان پر حرام یعنی قابل عزت ہیں۔ (کتاب الحج باب ۱۳۲، روایت نمبر ۱۷۳۹)