صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 72 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 72

صحيح البخاری جلد ۳ ۷۲ ٢٤ - كتاب الزكاة کے وجوب کی طرف توجہ دلائی ہے۔ امام موصوف کے نزدیک مومنین میں وہ لوگ بھی اس حکم کی پابندی میں شامل ہیں جو مفلس ہیں۔ ان کا صدقہ یہ ہے کہ اچھے سلوک، نیک مشورہ اور وعظ ونصیحت سے لوگوں کو فائدہ کو فائدہ پہنچائیں۔ مثلاً کسی مصیبت زدہ کو نیک مشورہ دیا جائے اور ہو سکے تو اس کی سفارش کی جائے۔ بیمار کو طبیب سے دوائی لا دی جائے۔ عدل کو بھی آپ نے صدقہ میں شمار فرمایا ہے۔ (روایت نمبر ۲۷۰۷) یا کم از کم کسی کو تکلیف نہ دی جائے اور اس طرح لوگوں کے لئے نیک نمونہ بنیں۔ بیسیوں طریق سے انسان عملاً دوسروں کے لئے اپنے وجود کو مفید بنا سکتا ہے۔ آیت مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرہ:۴) کا بھی یہی مفہوم ہے کہ ہر خدا داد طاقت مصرف میں لائی جائے ۔ صدقہ کے معنی ہر نیک عمل جو خالصاً رضاء الہی کی خاطر کیا جائے ۔ (دیکھئے کتاب الایمان باب نمبر ۴۱ ۵۰۰) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ بھی دیا اور مؤثر پیرا یہ میں نصیحت بھی فرمائی۔ بَاب ۳۱ : قَدْرُ كَمْ يُعْطَى مِنَ الزَّكَاةِ وَالصَّدَقَةِ وَمَنْ أَعْطَى شَاةً۔ زکوۃ اور صدقہ کس قدر دے؟ اور جو ایک (پوری ) بکری دے۔ ١٤٤٦ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ۱۴۴۶: احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا، (کہا : ) حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَاءِ ابو شہاب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد حذاء سے، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيْرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ خالد نے حفصہ بنت سیرین سے، حفصہ نے حضرت رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ بُعِثَ إِلَى نُسَيِّبَةَ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں : الْأَنصَارِيَّةِ بِشَاةٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى عَائِشَةَ لسئیہ انصاریہ کو ایک بکری بھیجی گئی تو انہوں نے اس رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنْهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی میں سے کچھ ( گوشت) ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھیجا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ فَقُلْتُ کچھ (کھانے کو ہے؟ حضرت عائشہ نے کہا: * لَا إِلَّا مَا أَرْسَلَتْ بِهِ نُسَيِّبَةُ مِنْ تِلْكَ کچھ نہیں ، سوائے اس گوشت کے جو نسئیہ نے اس الشَّاةِ فَقَالَ هَاتِ قَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا ۔ بکری میں سے بھیجا ہے۔ آپ نے فرمایا: لاؤ کیونکہ اطرافه ١٤٩٤، ٢٥٧٩ وہ اپنی جگہ پہنچ چکی ہے۔ فتح الباری مطبوعہ بولاق میں لفظ فقلت کی بجائے ”فَقَالَتْ“ ہے ( فتح الباری جزء ۳ حاشیہ صفحہ ۳۹۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔