صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 705
صحيح البخاری جلد ۳ ۷۰۵ ۳۳ - كتاب الاعتكاف قول ہے کہ اگر حدیث زیر باب میں حضرت عائشہ کی اجازت حاصل کرنے کا ذکر نہ ہوتا تو امام شافعی فتوی سے متفق نہ ہوتے۔ ( فتح الباری جز ۴ صفحہ ۳۴۹-۳۵۰) اس مسئلہ کے بارے میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی رائے محفوظ رکھی ہے۔ در اصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ واقعہ محسوس کیا کہ عورتیں ایک دوسرے کی ریس میں اعتکاف کی غرض سے خیمہ زن ہیں تو آپ نے بُرا برا مانا اور اعتکاف کا ارادہ چھوڑ دیا۔ اس واقعہ سے کراہت کا نہ سے کراہت کا فتوی مستنبط کیا گیا ہے لیکن ریس والی صورت نہ ہو تو عورت اپنے خاوند کی موجودگی میں اور اُس کی اجازت سے مختلف ہو سکتی ہے ورنہ اُس کا اعتکاف مگر وہ ہوگا۔ احکام الہیہ کی بجا آوری مرد و عورت دونوں کے لئے لازم ہے۔ اسی طرح نیک اعمال کی جزا کا وعدہ بھی دونوں سے کیا گیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ ( آل عمر آن : ۱۹۶) یعنی ان کے رب نے اُن کی دعائیں قبول کیں (اور فرمایا ) کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا ؛ خواہ وہ مرد ہو یا عورت تم ( اس میں ) ایک سے ہی ہو۔ بَاب : الْأَخْبِيَةُ فِي الْمَسْجِدِ مسجد میں چھولداریاں ٢٠٣٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ۲۰۳۴ : عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے یحی بن سعید سے، سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يحي نے عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے، عمرہ نے حضرت عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ نے اعتکاف بیٹھنے کا ارادہ فرمایا۔ جب آپ اُس جگہ فَلَمَّا انْصَرَفَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أَرَادَ گئے جہاں اعتکاف بیٹھنا تھا تو کیا دیکھتے ہیں، چند أَنْ يَعْتَكِفَ إِذَا أَخْبِيَةٌ خِبَاءُ عَائِشَةَ پردے لٹکے ہوئے ہیں ہوئے ہیں حضرت عائشہ کا پردہ اور حضرت وَخِبَاءُ حَفْصَةَ وَخِبَاءُ زَيْنَبَ فَقَالَ حفصہ کا پردہ اور حضرت زینب کا پردہ۔ آپ نے الْبِرَّ تَقُوْلُوْنَ بِهِنَّ ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَمْ فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ نیکی کی غرض سے لگائے گئے يَعْتَكِفْ حَتَّى اعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ ہیں۔ پھر آپ لوٹ گئے اور مختلف نہیں ہوئے شَوَّالٍ۔ یہاں تک کہ شوال کے عشرے میں اعتکاف کیا۔ اطرافه ۲۰۳۳، ٢٠٤١، ٢٠٤٥۔