صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 706
حيح البخاري - جلد ٣ 2+4 ٣٣- كتاب الاعتكاف شریح : الْأَخْبِيَّةُ فِي الْمَسْجِدِ : شارمین نے اس باب کی غرض سے تعلق میں سوائے اس کے اور کوئی رائے ظاہر نہیں کی کہ حضرت عائشہ کی روایت جو سابقہ باب ( روایت نمبر ۲۰۳۳) میں مفصل بیان ہو چکی ہے۔یہاں ایک اور سند سے نقل کی گئی ہے۔اسی سند کی بعض روایات میں حضرت عائشہ کا ذکر نہیں۔موطا میں بھی اُن کی یہ روایت مرسلاً منقول ہے۔(موطا امام مالک، کتاب الاعتكاف، باب قضاء الإعتكاف) ( فتح الباری جز ۴ صفه ۳۵۲) گویائی سند سے بتایا گیا ہے کہ ابو نعمان راوی کی طرح عبد اللہ بن یوسف نے بھی یہ روایت موصول النقل کی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ امام موصوف کا یہی طریق ہے کہ متعد دسندوں سے اپنی روایت کی صحت کو مختلف عنوانوں کے تحت مضبوط سے مضبوط کرتے ہیں مگر یہاں اس امر کے علاوہ ایک اور بات بھی ہے جس کی طرف علامہ عینی نے اپنی شرح میں اشارہ کیا ہے کہ محولہ بالا روایت کے الفاظ سابقہ روایت کے الفاظ سے قدرے مختلف ہیں۔پہلی روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پردے دیکھ کر دریافت فرمایا : ما هذا؟ یہ کیا ہے؟ اور اس روایت میں یہ الفاظ ہیں: إِذَا اخْبيَةٌ۔اچانک کیا دیکھا کہ چھولداریاں کھڑی ہیں۔مسجد میں اُن کا وجود ایک اوپری بات تھی۔(عمدۃ القاری جزءا اصفحہ ۱۵) علامہ عینی کی یہ توجیہ ممکن ہے درست ہو۔یکے بعد دیگرے تین عنوان قائم کرنا اور ان میں اپنی رائے کا عدم اظہار اس سے غالباً امام موصوف کا مقصد اس طرف اشارہ کرنا ہے کہ جس امر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس قدر صراحت فرمائی ہو، ادب تقاضا کرتا ہے کہ اُسی حد تک قیاس محدود رکھا جائے اور جس امر میں آپ نے خاموشی فرمائی ہو وہاں خاموش رہنا چاہیے اور اُس پر کسی مسئلہ کی بنیاد رکھنا مناسب نہیں۔کتاب العلم میں امام موصوف اپنا یہ اصول بیان کر چکے ہیں کہ وہ اشارے سے ہی فتویٰ دیں گے۔(کتاب العلم باب ۲۴ روایت نمبر ۸۴) چنانچہ اگلا باب بھی استفہامیہ ہے اور یہی امر ذہن نشین کرانے کی غرض سے قائم کیا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے دروازے تک اپنی بیوی کو چھوڑنے کے لئے تشریف لے گئے۔اس سے کوئی مسئلہ استنباط کرنا محض تکلف ہوگا۔بَاب ٨ : هَلْ يَخْرُجُ الْمُعْتَكِفُ لِحَوَائِجِهِ إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ کیا معتکف اپنی ضرورتوں کے لئے مسجد کے دروازے تک جائے ؟ :٢٠٣٥ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۲۰۳۵ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِي قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ نے نہیں خبر دی کہ زہری سے مروی ہے۔انہوں نے ابْنُ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ کہا: حضرت علی بن حسین (امام زین العابدین ) رضی صَفِيَّةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ الله عنہما نے مجھے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ