صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 700
صحيح البخاري - جلد ٣ ٣٣- كتاب الاعتكاف مسجد جامع ہو یا مسجد محلہ یا مسجد مکان محمد بن عمر مالکی کے نزدیک ہر جگہ میں اعتکاف ہو سکتا ہے۔مسجد کی تخصیص نہیں۔مگر احناف کے نزدیک عورت گھر کی مسجد میں اعتکاف کر سکتی ہے اور مرد جہاں باجماعت نماز پڑھی جائے۔امام ابو حنیفہ اور امام احمد بن حنبل" کے نزدیک مساجد کی تخصیص اس لئے ہے کہ مختلف کو باجماعت نماز میسر ہو جو نوافل سے بدرجہا افضل ہے اور جامع مسجد میں اعتکاف اس لئے افضل ہے کہ نماز جمعہ میں شریک ہونے کا موقع ملے۔(فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۳۴۵) اس قسم کے فقہی اختلافات مد نظر رکھتے ہوئے مذکورہ باب قائم کیا گیا ہے جس کی پہلی روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا ذکر ہے کہ آپ رمضان کے آخری عشرہ میں خلوت نشین ہوا کرتے تھے۔دوسری روایت میں یہ ذکر ہے کہ آپ کا آخر تک یہی طریق عمل رہا۔تیسری روایت بھی اسی امر کی تائید کرتی ہے۔بَاب ٢ : الْحَائِضُ تُرَجِّلُ رَأْسَ الْمُعْتَكِفِ حائضہ کا مختلف کو کنگھی کرتا ۲۰۲۸ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۲۰۲۸ : محمد بن ننی نے ہم سے بیان کیا کہ بھئی ( بن سعید حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي قطان) نے ہمیں بتایا۔ہشام بن عروہ ) سے مروی ہے أَبِي عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ کہ انہوں نے کہا: میرے باپ نے حضرت عائشہ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے مجھے خبر دی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر میری طرف جھکا دیتے جبکہ آپ مسجد میں گوشہ نشین ہوتے اور میں حائضہ ہونے کی حالت میں آپ کو کنگھی کرتی۔يُصْغِي إِلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ مُجَاوِرٌ فِي الْمَسْجِدِ فَأَرَجِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ۔اطرافه ٢٩٥، ۲۹٦، ۳۰۱، ۲۰۲۹، ٢٠٤٦، ٥٩٢٥ ،۲۰۳۱ ،۲۰۳۰ بَاب : {الْمُعْتَكِفُ * } لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ معتکف م بغیر ضرورت گھر میں نہ جائے ۲۰۲۹: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ :۲۰۲۹: قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ وَعَمْرَةَ سعد) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن شہاب سے، بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ ابن شہاب نے عروہ اور عمرہ بنت عبدالرحمن سے لفظ "المُعْتَكِف فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے (فتح الباری جزء حاشیہ صفحہ ۳۴۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔