صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 699
صحيح البخاری جلد ۳ ۶۹۹ ۳۳ - كتاب الاعتكاف عَيْنَايَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم کو میری آنکھوں نے دیکھا کہ عَلَى جَبْهَتِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطَّيْنِ مِنْ صُبْحِ اکیسویں کی صبح کو آپ کی پیشانی پر پانی اور کیچڑ کا إِحْدَى وَعِشْرِينَ۔ نشان ہے۔ اطرافه: ٦٦٩، ٨١٣ ٣٦، ۲۰۱٦، ۲۰۱۸، ٢٠٣٦، ٢٠٤٠۔ تشريح الاعْتِكَافُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ : : اعتکاف عكوف سے مشتق ہے۔ جس کے معنی ٹھہرنا، -------- روکنا، اپنے اوپر لازم کرنا اور عکوف کے معنی جھکنے ، دھرنا مار کر بیٹھنے اور چمٹے رہنے کے بھی ہیں۔ چمٹے رہنے کے معنوں میں یہ لفظ کئی آیتوں میں وارد ہوا ہے۔ (دیکھئے طله : ۹۲، ۹۸ - الأنبياء:۵۳۔ الشعراء: ۷۲) روک رکھنے کے معنوں میں دیکھئے: الفتح: ۲۶ ۔ کہتے ہیں الاعْتِكَاف : الإِقَامَةُ بِالْمَكَانِ وَلَزُوْمُهَا۔ (لسان العرب: عكف) یعنی دھر نا مار کر کسی جگہ بیٹھ گیا۔ اعتکاف کے معنی گوشہ نشین ہونے کے بھی ہیں۔ لفظ مجاورت بھی انہی معنوں میں استعمال ہوتا نا ہے ) ( فتح الباری جز ۴۰ صفحہ ۳۴۶ شرح باب ۲ ۳۴۶ شرح باب اور (۲) یہ لفظ چوار سے مشتق ہے یعنی ہم نشیر مین ہونا۔ زمانہ جاہلیت میں عرب بھی بیت اللہ میں اعتکاف بیٹھا کرتے تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ ایک رات بیت اللہ میں اعتکاف بیٹھوں گا۔ آپ نے فرمایا کہ نذر پوری کریں۔ ( روایت نمبر ۲۰۳۲) امام مسلم نے بھی صحیح سند سے یہ روایت نقل کی ہے۔ (مسلم، كتاب الأيمان، باب نذر الكافر وما يفعل فيه اذا أسلم) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی بعثت سے قبل غار حراء میں کئی کئی رات خلوت نشین رہا کرتے تھے۔ (دیکھئے بدء الوحی ، روایت نمبر ۴ ) اس روایت میں جو لفظ تحبُّث استعمال ہوا ہے۔ وہ اعتکاف یعنی گوشہ نشینی کے مفہوم میں ہے۔ اسے تحنف بھی کہتے ہیں۔ یعنی یکسو ہو جانا ۔ شَاء اور فاء متبادل حروف ہیں۔ اس سے لفظ حنیف ہے۔ یہ طریق عبادت قدیم سے عربوں میں رائج تھا مگر غیر معین صورت میں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سنت ابراہیمی تھی جو مرور زمانہ کے ساتھ بدلی ہوئی صورتوں میں بطور یادگار باقی رہ گئی ۔ حنیف حضرت ابراہیم کا لقب ہے۔ اسلام نے ابراہیمی سنت کو پھر تازہ کر دیا اور اعتکاف کے لئے چند پابندیاں عائد کی ہیں جو ابواب الاعتکاف کا اصل موضوع ہیں۔ ان پابندیوں کی مشروعیت بتانے کے لئے قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیت کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یعنی مسجد میں ہو، مباشرت سے بکلی اجتناب ہوا اور بموجب تصریح نبوی رمضان کے آخری عشرے میں ہو تا بحالت اعتکاف روزہ رکھنے کا موقع بھی ملے۔ اس تعلق میں تین روایتیں نقل کی گئی ہیں جونئی سند سے ہیں اور متفق ہیں کہ رمضان کے آخری دہا کے میں اعتکاف ہوا کرتا تھا۔ الاعْتِكَافُ فِي الْمَسَاجِدِ كُلِّهَا : عنوانِ باب کے دو حصے ہیں۔ ایک میں اعتکاف کے وقوع کا اور دوسرے میں اعتکاف کی جگہ کا ذکر ہے۔ جیسا کہ الْمَسَاجِدِ كُلِّهَا سے ظاہر ہے کہ اعتکاف ہر مسجد میں کیا جاسکتا ہے۔ خواہ