صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 694 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 694

صحيح البخاری جلد ۳ ۶۹۴ ۳۲- کتاب فضل ليلة القدر چمکنا تھا۔اس تعلق میں دیکھئے کتاب شہادۃ القرآن جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورۃ القدر کے تعلق میں فرماتے ہیں: علاوہ ان معنوں کے جو مسلم قوم ہیں لیلتہ القدر وہ زمانہ بھی ہے جب دنیا میں ظلمت پھیل جاتی ہے اور ہر طرف تاریکی ہی تاریکی ہوتی ہے۔تب وہ تاریکی بالطبع تقاضا کرتی ہے کہ آسمان سے کوئی نور نازل ہو۔سوخدا تعالیٰ اُس وقت اپنے نورانی ملائکہ اور روح القدس کو زمین پر نازل کرتا ہے اور اسی طور کے نزول کے ساتھ جو فرشتوں کی شان کے ساتھ مناسب حال ہے۔تب روح القدس تو اُس مجدد اور مصلح سے تعلق پکڑتا ہے جو اجتباء اور اصطفاء کی خلعت سے مشرف ہو کر دعوت حق کے لئے مامور ہوتا ہے اور فرشتے اُن تمام لوگوں سے تعلق پکڑتے ہیں جو سعید اور رشید اور مستعد ہیں اور ان کو نیکی کی طرف کھینچتے ہیں اور نیک توفیقیں اُن کے سامنے رکھتے ہیں۔تب دنیا میں سلامتی اور سعادت کی راہیں پھیلتی ہیں اور ایسا ہی ہوتا رہتا ہے جب تک دین اپنے اُس کمال کو پہنچ جائے جو اُس کے لیے مقدر کیا گیا ہے۔شہادة القرآن- روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۱۳-۳۱۴) اسی جگہ آپ فرماتے ہیں کہ اس حقیقت پر خدا تعالیٰ نے مجھے مطلع کیا ہے۔" بَاب ٤ : رَفْعُ مَعْرِفَةِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ لِتَلَاحِي النَّاسِ لوگوں کے آپس میں جھگڑنے کی وجہ سے لیلۃ القدر کی شناخت کا اُٹھایا جانا ۲۰۲۳ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۲۰۲۳ محمد بن شنی نے مجھ سے بیان کیا کہ خالد حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا بن حارث نے مجھے بتایا۔حمید (طویل) نے ہم سے حُمَيْدٌ حَدَّثَنَا أَنَسٌ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ بیان کیا۔حضرت انس نے حضرت عبادہ بن صامت الصَّامِتِ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى الله سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُخْبَرَنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ في صلى الله علیہ وسلم باہر آئے تا ہمیں لیلتہ القدر کی بابت فَتَلَاحَى رَجُلَانِ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ فَقَالَ بتائیں تو مسلمانوں میں سے دو شخص ایک دوسرے کو خَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ سخت سست کہہ رہے تھے۔آپ نے فرمایا: میں نکلا فَتَلَاحَى فُلَانٌ وَفُلَانٌ فَرُفِعَتْ وَعَسَى تھا کہ لیلة القدر سے تعلق تمہیں خبر دوں تو فلاں اور فلاں