صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 695 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 695

صحيح البخاری جلد ۳ ۶۹۵ ۳۲ - کتاب فضل ليلة القدر أَنْ يَكُوْنَ خَيْرًا لَّكُمْ فَالْتَمِسُوهَا فِي آپس میں جھگڑ رہے تھے تو ( میرے ذہن سے خبر ) اُٹھ التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ۔گئی اور ہو سکتا ہے کہ یہی تمہارے لئے بہتر ہو۔اس لئے تم اسے نویں ، ساتویں اور پانچویں (رات) کو تلاش کرو۔اطرافه: ٤٩ ٦٠٤٩۔بابه : الْعَمَلُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ رمضان کے آخری عشرے میں ریاضت ٢٠٢٤: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۲۰۲۴ علی بن عبد اللہ مدینی ) نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ عَنْ که ( سفیان بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو یعفور أَبِي الضُّحَى عَنْ مَّسْرُوْقٍ عَنْ عَائِشَةَ ( عبدالرحمن) سے ، انہوں نے ابوالضحی سے، ابوالضحیٰ نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى مسروق سے، ہمسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب رمضان کا آخری اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ شَدَّ عشرہ شروع ہوتا تو نبی علیہ اپنی کمر کس لیتے اور رات مِنْزَرَهُ وَأَحْيَا لَيْلَهُ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ۔بھر جاگتے رہتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے۔يح۔اَلْعَمَلُ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ : باب نمبر میں میں واقع کا ذکر ہے۔اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو سبق دیا ہے کہ لوگ اگر آپس میں صلح کاری سے رہیں گے تو اُن کو لیلتہ القدر کی گھڑی نصیب ہوگی اور آپ نے اس گھڑی کا علم اٹھائے جانے کو خیر قرار دیا ہے۔یہ اس لئے کہ اس کا علم حاصل کرنے میں بذریعہ دعا اور عبادت جدو جہد جاری رہے۔چنانچہ باب نمبر ۵ میں یہ غرض نمایاں کی گئی ہے؛ جہاں بتایا گیا ہے کہ آخری عشرے میں انسان نہ صرف خود ہی عبادت میں مشغول ہو جائے بلکہ اپنے اہل بیت کو بھی اس میں شامل کرے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔اندازہ کریں اس روحانی جدو جہد کے کم و کیف اور اس کی تاثیر کا۔اگر تمام مسلمان گھرانے رمضان کے آخری عشرے میں توجہ الی اللہ کے لئے ہمہ تن مصروف ہو جا ئیں اور اس میں اُن کا مقصد صرف یہ ہو کہ لیلۃ القدر والی گھڑی نصیب ہو، جس کے حصول پر روح القدس کی بجلی ملائکتہ اللہ کے نزول اور ظلمت کے بعد طلوع فجر کا ظہور منحصر ہے۔شَدَّ مِثْزَرَهُ : کنایہ ہے، ازدواجی تعلقات کلیہ ترک کرنے اور عبادت اور دعاؤں میں ہمہ تن مصروف ہو جانے سے جیسا کہ اعتکاف میں ہوتا ہے۔ایک عرب شاعر اپنی قوم کی تعریف میں کہتا ہے:۔قَوْمٌ إِذَا حَارَبُوا شَدُّوا مَأْزِرَهُمْ عَنِ النِّسَاءِ وَلَوْ بَاتَتْ بِأَطْهَارِ (فتح الباری جز به صفحه ۳۴۲)