صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 680
صحيح البخاری جلد ۳ ۶۸۰ ۳۱- كتاب صلاة التراويح قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ ابن شہاب نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ عَلَی ہوئے اور دستور یہی تھا۔ پھر حضرت ابوبکر کی ذَلِكَ ثُمَّ كَانَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِي خلافت میں یہی دستور رہا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہا خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ کی خلافت کے ابتدائی زمانہ میں بھی۔ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ۔ اطرافه ۳۵، ۳۷، ۳۸، ۱۹۰۱، ۲۰۰۸، ۲۰۱۴۔ ۲۰۱۰: وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ۲۰۱۰: اور ( مالک نے ) ابن شہاب سے روایت کی ۔ انہوں عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے عبدالرحمن بن عبد قاری سے عَبْدِ الْقَارِي أَنَّهُ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ روایت کی کہ انہوں نے کہا: رمضان کی ایک رات میں ابْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَيْلَةً فِي حضرت عمر بن خطاب دے کے ساتھ مسجد کی طرف نکلا تو رَمَضَانَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ کیا دیکھتے ہیں کہ لوگ الگ الگ گروہوں میں بٹے ہوئے أَوْزَاعٌ مُتَفَرَّقُوْنَ يُصَلِّي الرَّجُلُ ہیں۔ کوئی شخص اپنے طور پر اکیلے نماز پڑھ رہا ہے اور کوئی شخص ایسے طور پر نماز پڑھ رہا ہے کہ اُس کی اقتداء میں لِنَفْسِهِ وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلَاتِهِ الرَّهْطُ فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي أَرَى لَوْ چند ایک لوگ نماز پڑھ رہے ہیں تو حضرت عمر نے کہا: جَمَعْتُ هَؤُلَاءِ عَلَى قَارِئِ وَّاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ ثُمَّ عَزَمَ فَجَمَعَهُمْ عَلَى میں سمجھتا ہوں کہ اگر اُن کو ایک ہی قاری کی اقتداء میں اکٹھا کر دوں تو یہ بہتر ہوگا۔ پھر انہوں نے پختہ ارادہ کر لیا اور حضرت ابی بن کعب کی اقتداء میں انہیں اکٹھا کر دیا۔ أُبَيِّ ابْنِ كَعْبٍ ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً پھر آپ کے ساتھ میں ایک اور رات نکلا اور لو نکلا اور لوگ اپنے أُخْرَى وَالنَّاسُ يُصَلُّوْنَ بِصَلَاةِ قاری کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے۔ حضرت عمر نے قَارِئِهِمْ قَالَ عُمَرُ نِعْمَ الْبِدْعَةُ هَذِهِ کہا: یہ کیا اچھی جدت ہے۔ اور رات کا وہ حصہ جس وَالَّتِي يَنَامُوْنَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي میں یہ لوگ سوئے ہوتے ہیں اُس حصہ سے افضل ہے يَقُوْمُوْنَ يُرِيدُ آخِرَ اللَّيْلِ وَكَانَ النَّاسُ جس میں نماز پڑھتے ہیں یعنی رات کا پچھلا حصہ افضل حمد فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں ” وَالنَّاسُ “ کی بجائے ” وَالامُرُ“ ہے ( فتح الباری جزء حاشیہ صفحہ ۳۱۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔