صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 668 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 668

صحيح البخاری جلد ۳ ۶۶۸ ٣٠ - كتاب الصوم بَاب ٦٦ : صَوْمُ يَوْمِ الْفِطْرِ عید الفطر کے دن روزہ رکھنا ۱۹۹۰: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۱۹۹۰: عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ قَالَ سے ابن شہاب نے ابوعبید سے جو کہ ابن از ہر کے شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ آزاد کردہ غلام تھے، روایت کی۔ انہوں نے کہا: رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ هَذَانِ يَوْمَانِ نَهَى حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ میں نے رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عید کی نماز پڑھی تو آپ نے کہا: یہ دو دن ہیں جن میں صِيَامِهِمَا يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ روزہ رکھنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع وَالْيَوْمُ الْآخَرُ تَأْكُلُوْنَ فِيْهِ مِنْ فرمایا ہے۔ ایک تو عید الفطر کا وہ دن جس میں تم اپنے نُسُكِكُمْ۔ اطرافه: ٥٥٧١ روزوں کی افطاری کرتے ہو اور دوسرا وہ دن جس میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ مَنْ ابو عبد الله (امام بخاری) نے کہا: ابن عیینہ نے کہا: قَالَ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ فَقَدْ أَصَابَ وَمَنْ جس نے (ابو عبید کو) ابن ازہر کے آزاد کردہ غلام قَالَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفِ فَقَدْ کہا تو اُس نے درست کہا۔ اور جس نے حضرت عبد الرحمان بن عوف کے آزاد کردہ غلام کہا تو اُس أَصَابَ۔ نے بھی درست کہا۔ ۱۹۹۱ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۱۹۹۱ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى وہیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن یحی سے، عَنْ أَبِيْهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابو سعید خدری ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ انہوں عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ وَعَنِ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الفطر اور عید الاضحی