صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 655
صحيح البخاری جلد ۳ ۶۵۵ صلى الله عليه ٣٠ - كتاب الصوم ضُيِّقَتْ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ هَكَذَا وَقَبَضَ كَفه ۔ (مسند احمد بن حنبل، حدیث ابو موسى الأشعرى، جز ۴۶ صفر ۴۱۴) (صحيح ابن خزيمة، كتاب الصيام، باب فضل صيام الدهر اذا أفطر الأيام التي زجر عن الصيام فيها، روایت نمبر ۲۱۵۴ جز ۳۰ صفحه ۳۱۳) ( فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۲۸۲ شرح باب ۵۷) یعنی جس نے عمر بھر روزے رکھے جہنم اُس پر اس طرح تنگ ہو جائے گی۔ یہ فرما کر آپ نے اپنی انگلیوں سے گرہ بنا کر اشارہ کیا۔ اس فقرے کا مفہوم شدید انذار کا بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی اس کے لئے جہنم سے نکلنے کی راہ نہ رہے گی اور ایک فریق نے اس کا مفہوم یہ بھی لیا ہے کہ وہ جہنم میں داخل نہ ہوگا۔ مگر مفہوم معین کرنے کے لئے صرف ایک فقرے کو نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ سباق کلام کو دیکھنا ضروری ہے۔ وصال کے روزوں کے تعلق میں قائم کر قائم کردہ ابواب کے پیش نظر دوسرا مفہوم بعید از قیاس ہے اور اس تعلق میں آنحضرت ﷺ کی نصیحت بھی واضح ہے۔ ان کی روشنی میں مذکورہ بالا فقرے کا مفہوم دیکھنا چاہیے۔ ۔ علاوہ ازیں نماز وغیرہ عبادات : وغیرہ عبادات میں بھی آنحضرت نے غلو سے منع فرمایا ہے۔ اس تعلق میں کتاب الإيمان باب ۳۲٬۲۹ نیز کتاب التهجد باب ۱۱، ۶ ابھی دیکھئے۔ لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ : ابن عربی جو مالکی المذہب ہیں؛ لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فقرہ اگر دعائیہ ہے تو بھی ہلاکت اور اگر خبر یہ ہے تو بھی ہلاکت۔ وہ فریق جس نے عمر بھر کے روزوں کے جواز کا فتوی دیا ہے اُن کا خیال ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فقرہ اُس شخص کے بارے میں ہے کہ جس نے عیدین کے روزے بھی رکھے۔ اُس فریق کے نزدیک اگر قدرت ہو تو ہمیشہ روزے رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مشار الیہ نصیحت کے الفاظ سے پایا جاتا ہے کہ آپ نے جسمانی صحت کو نقصان پہنچنے کے اندیشہ سے دائمی روزوں کی ممانعت فرمائی۔ امام اموصوف اس فریق کی رائے کے حق میں نہیں ۔ ( فتح الباری جز ۴ صفحہ ۲۸۲ ۲۸۳) بَاب ٥٨ : صَوْمُ يَوْمٍ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن نہ رکھنا ۱۹۷۸ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ۱۹۷۸ : محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر نے حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُّغِيْرَةَ ہمیں بتایا ۔ شعبہ نے مغیرہ سے روایت کرتے ہوئے قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے مجاہد سے سنا۔ انہوں نے عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صُمْ مِنَ ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ہر مہینے میں الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ قَالَ أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ تین دن روزے رکھو ۔ ( حضرت عبداللہ نے ) کہا: میں ذَلِكَ فَمَا زَالَ حَتَّى قَالَ صُمْ يَوْمًا اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ انہیں سمجھاتے