صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 635
صحيح البخاری جلد ۳ ۶۳۵ ٣٠ - كتاب الصوم بَاب ٤٦ : إِذَا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ رمضان میں جب روزہ افطار کرے پھر سورج نکل آئے ١٩٥٩ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي ۱۹۵۹ عبد اللہ بن ابی شیبہ نے مجھ سے بیان کیا۔ شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ عُرْوَةَ عَنْ فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي ہے ، ہشام نے فاطمہ ( بنت منذر ) سے، فاطمہ نے بَكْرِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَتْ حضرت رت اسماء بنت ابی ابی : بکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی أَفْطَرْنَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہ انہوں نے کہا: بی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں وَسَلَّمَ يَوْمَ غَيْمٍ ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ ہم نے روزہ افطار کی اور ابر کا دن تھا۔ پھر سورج نکل قِيْلَ لِهِشَامٍ فَأُمِرُوا بِالْقَضَاءِ قَالَ بُد آیا۔ ہشام سے پوچھا گیا کیا روزہ قضا کرنے کا انہیں حکم دیا گیا ؟؟ دیا گیا ؟ تو انہوں نے کہا: قضا ہی علاج تھا۔ مِنْ قَضَاءٍ وَقَالَ مَعْمَرٌ سَمِعْتُ هِشَامًا اور معمر نے کہا: میں نے ہشام کو کہتے ہوئے سنا: میں يَقُوْلُ لَا أَدْرِي أَقَضَوْا أَمْ لَا ۔ نہیں جانتا کہ انہوں نے روزہ قضا کیا یا نہیں۔ تشريح : إِذَا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ : مذکورہ بالا صورت میں جہر کا قولی ہے کہ دوبارہ روزہ رکھے لیکن امام مالک نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے متعلق ایک اور روایت نقل کی ہے جس کے ------- یہ الفاظ ہیں : أَفْطَرَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي رَمَضَانَ فِي يَوْمِ ذِي غَيْم ۔۔۔۔ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ عُمَرُ الْخَطْبُ يَسِيرٌ وَقَدِ اجْتَهَدْنَا ہے یعنی انہوں نے رمضان میں ایک ابر والے دن روزہ افطار کر لیا۔ پھر ان کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا: امیر المؤمنین ! سورج نکل آیا تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: یہ بات آسان ہے۔ ہم نے اجتہاد سے کام لیا تھا۔ یعنی عمداً قبل از وقت روزہ افطار نہیں کیا۔ کتاب مبسوط میں بھی یہی روایت منقول ہے کہ ایک دفعہ بادل کی وجہ سے صحابہ کرام نے روزہ افطار کر لیا۔ مؤذن اذان دینے کے لئے اذان دینے کی جگہ پر گیا اور اتنے میں سورج نکل آیا۔ تو اُس نے کہا: الشَّمْسُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ۔ اے امیر المومنین ! سورج ہے تو حضرت عمر نے فرمایا: بَعَثْنَاكَ دَاعِيًا وَلَمْ نَبْعَثْكَ رَاعِيًا مَا تَجَانَفَنَا الإِثْمَ وَقَضَاءُ يَوْمٍ عَلَيْنَا يَسِيرٌ ۔ یعنی ہم نے تجھے اذان دینے کے لئے بھیجا ہے بطور نگران نہیں بھیجا۔ ہم نے کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کیا اور ایک دن کی قضا ہمارے لئے آسان ہے۔ ابوذر کی روایت کے مطابق اس جگہ لا بُدَّ کے الفاظ ہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۴ صفحہ ۲۵۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ (موطا امام مالک، کتاب الصيام، باب ما جاء في قضاء رمضان والكفارات