صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 632 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 632

صحيح البخاری جلد ۳ ۶۳۲ ٣٠ - كتاب الصوم رَسُولَ اللَّهِ فَلَوْ أَمْسَيْتَ قَالَ انْزِلْ ہونے دیں۔ آپ نے فرمایا: اُتر و اور ہمارے لئے ستو فَاجْدَحْ لَنَا قَالَ إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا قَالَ گھولو۔ اُس نے کہا: یا رسول اللہ ! اگر آپ شام ہونے انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُمْ دیں۔ آپ نے فرمایا: اتر اور ہمارے لیے ستو گھولو۔ فَشَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اُس نے کہا: ابھی آپ کے لئے دن باقی ہے۔ آپ نے فرمایا: اثر و اور ستو گھولو۔ چنانچہ وہ ( سواری سے ) ثُمَّ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ اترا اور آپ کے لئے ستو گھولے نبی صلی اللہ علیہ وسلم هَاهُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ۔ اطرافه: ١٩٤١، 19٥٦، 1958، 5397۔ ------- نے (بھی) ہے۔ پھر فرمایا: جب تم رات کو دیکھو کہ وہ ادھر سے آرہی ہے تو روزہ دار افطار کر چکا۔ تشریح : مَتى يَحِلَّ فِطْرُ الصَّائِمِ : روزہ افطار کرنے کے تعلق میں چار باب قائم کئے گئے ہیں۔ اس باب میں افطار کے وقت کا ذکر ہے۔ عنوان باب میں حضرت ابو سعید خدری کا حوالہ دے کر وقت کی تعیین کی گئی ہے جب سورج کی ٹکیہ نظر سے اوجھل ہو جائے تو روزہ کھولا جائے ۔ اندھیرے کا انتظار نہ کیا جائے۔ سعید بن منصور اور ابن ابی شیبہ نے اُن کی روایت جو نقل کی ہے۔ اس میں ذکر ہے کہ مجر دسورج غروب ہونے پر انہوں نے افطار کیا اور اُن کے ساتھی انتظار کرنے لگے کہ افق کی سفیدی دور ہو۔ (مصنف ابن ابی شیبه، كتاب الصيام، باب في تعجيل الافطار وما ذكر فيه ، جزء ۲ صفحه ۲۷۸) ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۲۵۰) مذکورہ بالا دونوں روایتیں اسی امر کی تائید میں ہیں۔ اس صراحت کے باوجو دو ہم سے کام لیا جاتا ہے جیسا کہ سحری کھانے کے وقت۔ ان دونوں میں وہم سے کام لینا منع ہے۔ بَاب ٤ ٤ : يُفْطِرُ بِمَا تَيَسَّرَ مِنَ الْمَاءِ أَوْ غَيْرِهِ پانی وغیرہ جو بھی میسر ہو، اُس سے روزہ افطار کرے ١٩٥٦ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ ۱۹۵۶ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد نے الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ سُلَيْمَانُ قَالَ ہمیں بتایا۔ سلیمان شیبانی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سِرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّی سے سنا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ اللہ کے ساتھ ا: ہم اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ فَلَمَّا نے ایک سفر کیا اور آپ روزہ دار تھے۔ جب سورج غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا ڈوب گیا تو آپ نے فرمایا: اتر و اور ہمارے لئے ستو