صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 604 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 604

صحيح البخاري - جلد ٣ ۶۰۴ ٣٠ - كتاب الصوم سَعِيْدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَالشَّعْبِيُّ وَابْنُ بھی یہی کہا اور سعید بن مسیب، شعبی ، ابن جبیر، جُبَيْرٍ وَإِبْرَاهِيمُ وَقَتَادَةُ وَحَمَّادٌ يَقْضِي ابراہیم، قتادہ اور حماد نے کہا: اُس کی جگہ ایک دن کا يَوْمًا مَكَانَهُ۔روزہ رکھے۔١٩٣٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ ۱۹۳۵: عبد اللہ بن منیر نے ہم سے بیان کیا۔انہوں سَمِعَ يَزِيدَ بْنَ هَارُوْنَ حَدَّثَنَا يَحْيَى نے یزید بن ہارون سے سنا کہ بچی نے جو سعید کے هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ بیٹے ہیں ہمیں بتایا کہ عبدالرحمن بن قاسم نے انہیں الْقَاسِمِ أَخْبَرَهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ خبردی محمد بن جعفر بن زبیر بن عوام بن خویلد سے ابْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ بْنِ خُوَيْلِدِ عَنْ مروی ہے۔انہوں نے عباد بن عبد اللہ بن زبیر سے عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ روایت کی۔انہوں نے اُن کو بتایا کہ انہوں نے سَمِعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ إِنَّ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔وہ کہتی تھیں : رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ وہ فَقَالَ إِنَّهُ احْتَرَقَ قَالَ مَا لَكَ قَالَ جل گیا۔آپ نے فرمایا: تجھے کیا ہوا؟ تو اس نے کہا کہ رمضان میں میں نے ( روزہ کی حالت میں ) اپنی أَصَبْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ فَأُتِيَ النَّبِيُّ بیوی سے صحبت کر لی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِكْتَلٍ يُدْعَى ایک ٹوکری جسے عرق کہتے ہیں؛ لائی گئی تو آپ نے الْعَرَقَ فَقَالَ أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ قَالَ أَنَا فرمایا: یہ جلنے والا کہاں ہے؟ اُس نے کہا: میں ہوں۔آپ نے فرمایا: یہ صدقہ دے دو۔قَالَ تَصَدَّقْ بِهَذَا۔اطرافه: ٦٨٢٢۔تشریح : إِذَا جَامَعَ فِي رَمَضَانَ : بحالت روزہ محرمات کے ارتکاب پر کفارہ وغیرہ کےدینے کے بارہ میں دو باب یکے بعد دیگر ے قائم کئے گئے ہیں۔سابقہ ابواب میں بھی بتایا گیا ہے کہ نسیان یا بغیر ارادہ واختیار اگر کھانے پینے کی کوئی چیز حلق میں اُتر جائے تو روزہ باطل نہ ہوگا۔مگر عمد أخلاف ورزی کے بارہ میں فقہاء کے دو بڑے بڑے فریق ہیں۔ایک فریق کی رائے ہے کہ محمد اخلاف ورزی کرنے والے کے گناہ کا ازالہ نہ صدقہ کر سکتا ہے اور نہ روزہ قضاء۔یعنی روزہ باطل ہو جاتا ہے اور اس کے بدلے میں اگر روزہ رکھے تو مقبول نہیں۔دوسرے فریق کی رائے میں روزہ