صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 602
صحيح البخاري - جلد ٣ ۶۰۲ ٣٠ - كتاب الصوم وُضُوْئِي هَذَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ لَا ہے اور فرمایا کہ جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو يُحَدِّثُ نَفْسَهُ فِيْهِمَا بِشَيْءٍ إِلَّا غُفِرَ لَهُ کر کے دور کعتیں پڑھیں اور اُن کے درمیان اپنے نفس سے کوئی بات نہ کی تو جو کوتاہیاں اُس سے ہو چکی مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔اطرافه ١٥٩، ١٦٠، ١٦٤، ٦٤٣٣۔ہیں، اُن کی ضرور مغفرت کی جائے گی۔تشریح : سِوَاكَ الرَّطْبِ وَالْيَابِسِ لِلصَّائم: مالیوں نے بعض مسائل میں غلوسے کام لیا ہے اور مسواک تک کو بحالت روزہ مکروہ گردانا ہے۔(فتح الباری جز ہم صفحہ ۲۰۲) جس کی وجہ سے امام بخاری نے علیحد وعنوان قائم کر کے اس کا رو مستند اور مشہور حدیث سے کیا ہے۔اس تعلق میں کتاب الوضوء باب ۷۳ روایت نمبر۲۳۴، ۲۴۵ بھی دیکھئے۔عنوان باب میں حضرت عامر بن ربیعہ حضرت عائشہ عطاء بن ابی رباح ، قتادہ، حضرت ابو ہریرہ، حضرت جابر بن عبداللہ ، حضرت زید بن خالد کے جو حوالہ جات نقل کئے گئے ہیں؛ وہ اول الذکر دونوں مسند احمد بن حنبل میں اور باقی حوالہ جات سعید بن منصور، عبد بن حمید، نسائی، ابو نعیم اور اصحاب السنن سے منقول ہیں۔باب ۲۸ (فتح الباری جز ۴ صفه ۲ ۲۰۳/۲۰) قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْشِقْ بِمَنْخِرِهِ الْمَاءَ نبی ﷺ کا فرمانا کہ جب کوئی وضو کرے تو چاہیے کہ وہ پہلے اپنے نتھنوں میں پانی لے وَلَمْ يُمَيِّز بَيْنَ الصَّائِمِ وَغَيْرِهِ وَقَالَ اور آپ نے روزہ دار اور غیر روزہ دار کے درمیان فرق الْحَسَنُ لَا بَأْسَ بِالسَّعُوْطِ لِلصَّائِمِ إِنْ نہیں کیا۔اور حسن نے کہا: روزہ دار کے ناک میں دوا لَّمْ يَصِلْ إِلَى حَلْقِهِ وَيَكْتَحِلُ وَقَالَ ڈالنے سے کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اُس کے حلق میں نہ عَطَاءٌ إِنْ تَمَضْمَضَ ثُمَّ أَفْرَغَ مَا فِي فِيْهِ پہنچے اور سرمہ لگائے۔اور عطاء نے کہا: اور اگر وہ کلی کرے مِنَ الْمَاءِ لَا يَضِيْرُهُ إِنْ لَّمْ يَزْدَرِدْ رِيْقَهُ اور پھر وہ پانی جو اس کے منہ میں ہو وہ نکال دے تو کوئی (مسند احمد بن حنبل، جزء۳ صفحه ۴۴۵) (مسند احمد بن حنبل، جزء ۶ صفحه ۷ (۴) (نسائی، کتاب الطهارة، باب الترغيب في السواك) (موطا امام مالک، کتاب الطهارة، باب ما جاء في السواك) (بخاري، كتاب الجمعة، باب السواك يوم الجمعة، روایت نمبر۸۸۷ (ترمذی، کتاب الطهارة، باب ما جاء فى السواك) (ابوداؤد، كتاب الطهارة، باب السواك)