صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 596
صحيح البخاری جلد ٣ ۵۹۶ ٣٠ - كتاب الصوم ۱۹۲۹ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۱۹۲۹ مرد نے ہم سے بیان کیا کہ کئی (قطان ) يَحْيَى عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ نے ہمیں بتایا۔ہشام بن ابی عبداللہ سے مروی ہے کہ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي (انہوں نے کہا: ) کی بن ابی کثیر نے ہمیں بتایا۔انہوں سَلَمَةَ عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمّ سَلَمَةَ عَنْ نے ابو سلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت زینب بنت ام سلمہ أُمِّهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ بَيْنَمَا أَنَا سے ، حضرت زینب نے اپنی ماں (حضرت ام سلمہ ) مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں الْحَمِيْلَةِ إِذْ حِضْتُ فَانْسَلَلْتُ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک چادر میں ( لیٹی ہوئی ) فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حَيْضَتِي فَقَالَ مَا لَكِ تھی کہ اتنے میں مجھے حیض آیا تو میں چپکے سے نکلی اور أَنَفِسْتِ قُلْتُ نَعَمْ فَدَخَلْتُ مَعَهُ فَدَخَلْتُ مَعَهُ فِی اپنے حیض کے کپڑے لئے تو آپ نے فرمایا تمہیں کیا الْحَمِيْلَةِ وَكَانَتْ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ ہوا ہے؟ کیا حیض آگیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔پھر میں آپ کے ساتھ چادر میں آگئی اور وہ اور رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلَانِ مِنْ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے نہایا کرتے تھے إِنَاءٍ وَّاحِدٍ وَكَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ۔اطرافه ۲۹۸، ۳۲۲، ۳۲۳ تشریح: اور انہیں بوسہ بھی دیتے جبکہ آپ روزہ دار ہوتے۔الْقُبْلَةُ لِلصَّائِمِ : سابقہ باب کے پیش نظر اس باب کے الگ قائم کرنے کی ضرورت نہیں معلوم ہوتی۔لیکن یہ اس لئے ہے کہ بعض روایات ایسی منقول ہیں، جن میں روزہ دار کے لئے بوسہ لینا مکروہ سمجھا گیا ہے اور اس ضمن میں عروہ بن زبیر کا یہ قول بھی نقل کیا گیا ہے : لَمُ اَرَ الْقَبلَةَ تَدْعُوا إِلَى الْخَيْرِ یعنی میں بوس وکنار میں کوئی خیر نہیں دیکھتا۔خود اس باب کی روایت نمبر ۱۹۲۸ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام میں بھی یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ بحالت روزہ بوسہ لینا مکروہ ہے۔جس پر حضرت عائشہ کو اس بات کا اظہار کرنا پڑا کہ محض بوسہ روزہ کو فاسد نہیں کر دیتا۔احکام حلت و حرمت میں غلو کرنا مناسب نہیں۔اس تعلق میں کتاب الحیض باب ۴، ۵ بھی دیکھئے۔(السنن الكبرى للبيهقى كتاب الصيام، باب اباحة القبلة لمن لم تحرك شهوته جز ۴ صفحه ۲۳۳)