صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 595 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 595

صحيح البخاری جلد ۳ ۵۹۵ ٣٠ - كتاب الصوم دور کا واسطہ بھی نہیں ہوتا۔ اس لئے روزہ فاسد ہونے کا کوئی محل نہیں۔ روایت نمبر ۱۹۲۷ کے آخر میں حضرت ابن عباس اور طاؤس کا جو حوالہ دیا گیا ہے اُس سے لفظ ادب کا مفہوم بتانا مقصود ہے۔ جس کے معنی مطلق حاجت کے ہیں نہ کہ شہوت کے۔ اور جابر بن زید کے حوالہ سے استثنائی حالت کی طرف اشارہ نہ کیا ہے کہ کبھی کسی فرد میں جس کی تیزی ایسی شدید ہوتی ہے کہ محض دیکھنے ہی سے انزال ہو جاتا ہے جو ایک بیماری ہے۔ ایسے شخص کا روزے کی حالت میں بوس و کنار تو کیا نظر اُٹھا کر دیکھنا بھی مناسب نہیں اور اگر انزال ہو جاتا ہے تو وہ بوجہ بیماری معذور ہوگا اور نہا کر روزہ پورا کر سکتا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۱۹۲ تا ۱۹۴) (عمدۃ القاری جزء اصفحه ۸ تا ۱۰) حضرت عائشہ کی روایت كَانَ أَمْلَكَكُمْ لاربه سے ضمنا یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دوسروں کو مناسب نہیں کہ بحالت روزہ تقبیل وغیرہ کے بارہ میں احتیاط کا پہلو مد نظر نہ رکھیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ضبط نفس حاصل تھا ؟ وہ دوسروں کو حاصل نہیں۔ یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ امام بخاری نے عنوانِ باب مصدر یہ رکھا ہے اور جواز تقبیل وغیرہ کا استدلال نہیں کیا بلکہ روایت نمبر ۱۹۲۷ کے آخر میں جابر بن زید کا حوالہ دیا ہے جس میں حدت احساس کا ذکر ہے۔ ا اس روایت کا حوالہ بلا وجہ نہیں ۔ بَاب ٢٤ : الْقُبْلَةُ لِلصَّائِمِ روزہ دار کا اپنی بیوی سے بوس و کنار کرنا ۱۹۲۸ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۱۹۲۸ محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ بچی نے حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ہمیں بتایا کہ ہشام سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا کہ أَبِي عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله میرے باپ نے مجھے بتا۔ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت عائشہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ ح سے ، حضرت عائشہ نے نبی علیہ سے روایت کی ۔ صلى الله وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ اور عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مَّالِكِ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ مالک سے، مالک نے ہشام سے، ہشام نے اپنے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُوْلُ باپ سے ، اُن کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُقَبِلُ بَعْضَ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ أَزْوَاجِهِ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ ضَحِكَتْ ۔ علیہ وسلم اپنی بعض ازواج کو بوسہ دیتے جبکہ آپ اطرافه: ۱۹۲۷۔ روزہ دار ہوتے ۔ ( یہ کہہ کر وہ ہنس دیں ۔