صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 594 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 594

صحيح البخاری جلد ٣ ۵۹۴ بَاب ۲۳ : الْمُبَاشَرَةُ لِلصَّائِمِ روزہ دار کا بیوی سے ہمکنار ہونا ٣٠ - كتاب الصوم وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَحْرُمُ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اُس کی شرمگاہ اُس پر حرام ہے۔عَلَيْهِ فَرْجُهَا۔۱۹۲۷ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ :۱۹۲۷ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا ، کہا: قَالَ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيْمَ شعبہ سے مروی ہے۔انہوں نے حکم سے، حکم نے عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ الله ابراہیم سے، ابراہیم نے اسود سے، اسود نے حضرت عَنْهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم بوس و کنار کرتے جبکہ آپ روزہ دار وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ وَكَانَ ہوتے اور آپ تم سب سے زیادہ ضبط نفس رکھنے أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ وَقَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاس والے تھے۔اور (اسود نے ) کہا کہ حضرت ابن عباس مَارِبُ (طه: ۱۹) حَاجَةٌ قَالَ طَاوُسٌ نے مارب کے معنی حاجت کے بتائے ہیں۔طاؤس غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ (النور: ۳۲) نے کہا: غَيْرَ أُولِي الْإِرْبَةِ کے معنی سادہ لوح ، جسے الْأَحْمَقُ لَا حَاجَةَ لَهُ فِي النِّسَاءِ۔عورتوں سے کوئی غرض نہ ہو۔وَقَالَ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ إِنْ نَّظَرَ فَأَمْنَى يُتِمُّ اور جابر بن زید نے کہا: اگر وہ دیکھے اور منی نکل آئے تو وہ اپنا روزہ پورا کرے۔صَوْمَهُ۔اطرافه: ۱۹۲۸ تشریح: الْمُبَاشَرَةُ لِلصَّائِمِ : مباشرت کے معنی جسم سے جسم لگانا اور لفظ جماع ازدواجی تعلق کے لئے ہے۔(فتح الباری جز ہم صفحہ ۱۹۱) جو روزہ دار کے لئے قطعا حرام ہے۔جیسا کہ عنوان باب میں اس کی نسبت حضرت عائشہ کا فنقومی نقل کیا گیا ہے۔باب ۱۴ میں بھی مذکورہ بالا آیت کا حوالہ گذر چکا ہے۔یہاں پر مباشرت اور جماع میں فرق بتانا مقصود ہے اور اسی غرض کے لئے حکم بن عتیبہ کی روایت کے الفاظ کا حوالہ دیا گیا ہے۔خود حضرت عائشہ کے الفاظ میں یہ صراحت موجود ہے : كَانَ اَمْلَكُكُمُ لِار به یعنی آپ کو پورا ضبط نفس حاصل تھا۔بوس و کنار میں محض اظہارِ محبت کی صورت تھی ، خواہش نفس کا تعلق نہ تھا۔روز مرہ کے مشاہدہ میں بوسہ لینے دینے یا بغل گیر ہونے میں شہوت رانی کا