صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 588 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 588

صحيح البخاری جلد ٣ ۵۸۸ باب ۱۹ : قَدْرُ كَمْ بَيْنَ السَّحُوْرِ وَصَلَاةِ الْفَجْرِ سحری اور فجر کی نماز میں کس قدر وقفہ ہو؟ ٣٠ - كتاب الصوم ۱۹۲۱ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ :۱۹۲۱: مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ نے ہمیں بتایا۔قتادہ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ حضرت انسؓ سے، حضرت انسؓ نے حضرت زید بن تَسَجَّرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ قُلْتُ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے سحری کھائی۔پھر آپ نماز کے لئے کھڑے ہوئے۔( قتادہ کہتے تھے :) میں نے پوچھا کہ اذان اور سحری کے درمیان کتنا وقفہ ہوتا ؟ تو انہوں نے کہا: بقدر پچاس آیتوں کے۔كُمْ كَانَ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالسَّحُوْرِ قَالَ قَدْرُ خَمْسِيْنَ آيَةً۔اطرافة: ٥٧٥ تشریح : قَدْرُكُمْ بَيْنَ السَّحُورِ وَصَلَاةِ الْفَجْرِ : اس تعلق میں کتاب مواقيت الصلاة باب ۲۷ روایت نمبر ۵۷۸،۵۷۶،۵۷۵ دیکھئے۔ان روایات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عام طور پر نماز صبح ایسے وقت میں ہوا کرتی تھی کہ عورتیں جب اُس سے فارغ ہو کر لوٹتیں تو ابھی خفیف سی تاریکی باقی ہوتی۔تاخیر کے بارہ میں امام بخاریؒ کے مد نظر امام احمد بن حنبل کی یہ روایت ہے: لَا تَزَالُ أُمَّتِى بِخَيْرِ مَا أَحْرُوا السَّحُورَ وَعَجَّلُوا الْفِطْرَ۔(مسند احمد بن حنبل، مسند الأنصار ، حديث أبي ذر الغفاری، جزء ۵ صفحه ۱۷۲) بَاب ۲۰ : بَرَكَةُ السَّحُوْرِ مِنْ غَيْرِ إِيْجَابِ سحری کھانے کی برکت بغیر اس کے کہ وہ واجب ہو لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے بغیر وَأَصْحَابَهُ وَاصَلُوْا وَلَمْ يُذْكَرِ سحری کھائے روزے رکھے ہیں اور سحری کھانے کا السَّحُورُ۔ذکر نہیں کیا۔۱۹۲۲: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ :۱۹۲۲ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ إِسْمَاعِيْلَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ جویریہ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے نافع سے،