صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 586
صحيح البخاري - جلد۳ DAY ٣٠ - كتاب الصوم باب ۱۷ : قَوْلُ النَّبِي لَا يَمْنَعَنَّكُمْ مِنْ سَحُوْرِكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: بلا کی اذان تمہیں سحری کھانے سے نہ روکے ۱۹۱۸ - ۱۹۱۹: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ :۱۹۱۸-۱۹۱۹ عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان ابْنُ إِسْمَاعِيْلَ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ کیا۔انہوں نے ابواسامہ سے، ابواسامہ نے عبیداللہ اللَّهِ عَنْ نَّافِعِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَالْقَاسِمِ بْنِ سے عبید اللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ اور مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ قاسم بن محمد سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بِلَالًا كَانَ يُؤَذِّنُ بِلَيْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ سے مروی ہے: حضرت بلال رات کو ہی اذان دے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُوا وَاشْرَبُوْا دیا کرتے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حَتَّى يُؤَذَنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتَوْمٍ فَإِنَّهُ لَا يُؤَذِّنُ ھاؤ اور پیو یہاں تک کہ (عبداللہ ) ابن ام مکتوم اذان دیں کیونکہ وہ اُس وقت تک اذان نہیں دیتے حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ قَالَ الْقَاسِمُ وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ أَذَانِهِمَا إِلَّا أَنْ يُرْقَى ذَا جب تک فجر طلوع نہ کرے۔قاسم نے کہا: اُن دونوں کی اذان کے درمیان صرف اتنا ہی فرق ہوتا تھا کہ یہ وَيَنْزِلَ ذَا۔چھت پر چڑھے اور وہ اُترے۔اطرافة: ٦١٧ ، ٦٢٠، ٦٢٢، ٢٦٥٦ ٧٢٤٨ تشریح: لَا يَمْنَعَنَكُمْ مِّنْ سَحُورِكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ : حضرت بلال اور حضرت ابن ام مکتوم دونوں مؤذن تھے۔ثانی الذکر چونکہ نابینا تھے ، لوگوں کے بتانے پر کہ فجر ہوگئی ہے اذان دیتے۔یہ دونوں صحابی مہاجرین اولین میں سے ہیں جبکہ حضرت عدی بن حاتم نے ان کے بہت بعد اسلام قبول کیا ہے۔حضرت بلال سفیدی دیکھتے ہی اذان دینے کا شوق رکھتے تھے۔ارشادِ باری تعالیٰ میں حَتَّى يَتَبَيَّنَ ہے۔یعنی پورے طور پر سفیدی نمایاں ہو جائے۔اس روایت سے بھی سحری کھانے کے وقت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔آج کل عرب مؤذن اذان دینے میں کافی وقت صرف کرتے ہیں اور حضرت بلال کی اذان تو اس لحاظ سے شہرت رکھتی ہے۔والہانہ انداز میں اذان دیتے تھے اور حضرت ابن ام مکتوم چھت پر چڑھنے میں بوجہ معذوری کچھ دیر سے پہنچتے ہوں گے تو ظاہر ہے کہ یہ اذانیں پانچ سے دس منٹ کے اندر اندر ختم ہو جاتی ہوں گی اور یہ اتنا وقت ہے کہ صبح کی تاریکی پوری سفیدی میں بدل جاتی ہے۔اس روایت سے امام بخاری تضمنا یہ بھی سمجھانا چاہتے ہیں کہ یہ خیال درست نہیں کہ حضرت عدی بن حاتم کی غلط نہیں پر مِنَ الْفَجْرِ کے الفاظ نازل ہوئے ورنہ اذانوں کے لئے دھاگے استعمال ہوتے جیسا کہ حضرت عدی بن حاتم نے کیا اور دونوں اذانوں کی وہ صورت نہ ہوتی جس کا ذکر روایت نمبر ۱۹۱۸-۱۹۱۹ میں ہوا ہے۔