صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 584
صحيح البخاری جلد ٣ ۵۸۴ ٣٠ - كتاب الصوم ۱۹۱۷ : حَدَّثَنَا سَعِيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ :۱۹۱۷ سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ ابن ابي حازم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت سہل بن سعد سے۔سَهْل بن سَعْدٍ۔حَدَّثَنِي سَعِيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا أَبُو ( نيز ) سعيد بن ابی مریم نے بھی مجھ سے بیان کیا کہ غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرفٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابو غسان محمد بن مطرف نے ہمیں بتایا، کہا: ابوحازم أَبُو حَازِمٍ حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت سہل بن سعد سے أُنْزِلَتْ : وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ مروی ہے۔انہوں نے کہا: وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ الْأَسْوَدِ (البقرة:۱۸۸) وَلَمْ يَنْزِلْ مِنَ نازل ہوئی اور اس میں مِنَ الْفَجْرِ کے الفاظ نہیں الْفَجْرِ فَكَانَ رِجَالٌ إِذَا أَرَادُوا الصَّوْمَ تھے۔کچھ لوگ ایسے تھے کہ جب وہ روزہ رکھنے کا رَبَطَ أَحَدُهُمْ فِي رِجْلِهِ الْخَيْطَ ارادہ کرتے تو اُن میں سے کوئی اپنے پاؤں میں کالا دھاگہ اور سفید دھاگہ باندھ لیتا اور اُس وقت تک الْأَبْيَضَ وَالْخَيْطَ الْأَسْوَدَ وَلَمْ يَزَلْ يَأْكُلُ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُ رُؤْيَتُهُمَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَعْدُ مِنَ الْفَجْرِ فَعَلِمُوا أَنَّهُ إِنَّمَا يَعْنِي اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ۔اطرافه: ٤٥١١۔کھاتا رہتا ہے کہ اُن دونوں میں فرق معلوم کرنا اُس کے لئے پورے طور پر ظاہر ہو جاتا۔اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد مِنَ الْفَجْرِ کے الفاظ نازل فرمائے اور اُن کو علم ہو گیا کہ اس سے تو رات اور دن مراد ہیں۔تشریح : كُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ روزہ کے اوقات میں سے رات کا وقت علی الاطلاق خارج ثابت کرنے کے بعد اب دن کے اوقات کی حدود بتائی گئی ہیں جس میں روزے سے متعلق پابندی ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔اس تعلق میں سات باب قائم کئے گئے ہیں۔باب ۶ میں قرآن مجید کی آیت کا حوالہ دے کر روزے کا وقت معین کیا گیا ہے۔طلوع فجر سے غروب آفتاب تک۔سفید دھاری سے صبح کی سفیدی اور سیاہ دھاری سے رات کی تاریکی مراد ہے۔یعنی جب تک ان دونوں کے درمیان نمایاں فرق فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ ”وَلَمْ يَزَلْ“ کی بجائے وَلَا يَزَالُ“ ہے۔(فتح الباری جز ۴ حاشیہ صفحہ ۱۷)