صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 581
صحيح البخاری جلد ٣ ۵۸۱ ٣٠ - كتاب الصوم فَأَطْلُبُ لَكَ وَكَانَ يَوْمَهُ يَعْمَلُ فَغَلَبَتْهُ کہنے لگی: نہیں۔لیکن میں جاتی ہوں آپ کے لئے عَيْنَاهُ فَجَاءَتْهُ امْرَأَتُهُ فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ ڈھونڈ کر لے آتی ہوں اور وہ دن کو مزدوری کیا کرتے خَيْبَةً لَّكَ فَلَمَّا انْتَصَفَ النَّهَارُ غُشِيَ تھے تو اُن کی آنکھ لگ گئی۔اُن کی بیوی اُن کے پاس عَلَيْهِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آئی۔جب انہیں سوتا پایا، کہنے لگی: ہائے تیری محرومی وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : أُحِلَّ لَكُمْ جب آدھا دِن ہوا تو بے ہوشی اُن پر طاری ہو گئی۔نبی لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَا بِكُمْ صلى اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو یہ آیت فَفَرِحُوْا بِهَا فَرَحًا شَدِيدًا وَنَزَلَتْ نازل ہوئی کہ روزوں کی راتوں میں تمہارا اپنی وَكُلُوا وَاشْرَبُوْا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ بیویوں کے پاس جانا جائز کیا گیا ہے۔وہ اس آیت الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ پر بہت ہی خوش ہوئے اور یہ آیت بھی نازل ہوئی: اور کھاؤ اور پیو، یہاں تک کہ تمہارے لئے سفید (البقرة: ۱۸۸) اطرافه: ٤٥٠٨۔دھاری کالی دھاری سے نمایاں ہو جائے۔تشريح : أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصَّيَامِ الرَّفَثُ۔یہ بیان کیا جاچکا ہے کہ عربوں میں بھی روزہ رکھنے کا دستور تھا؛ خصوصاً عاشورہ کا روزہ (دیکھئے روایت نمبر ۱۸۹۳) جو جمعہ کے دن عصر کے بعد شروع ہوتا اور دوسرے دن شام تک رہتا۔رات روزے ہی میں شمار ہوتی۔تورات سے ظاہر ہے کہ روزے میں فطیری روٹی، شراب اور تلذات نفس سے پر ہیز کرنے اور عبادت میں مشغول رہنے کی ہدایت تھی۔روزہ میں کام کاج کرنا بھی ممنوع تھا۔سوائے ایسے کام کے جس کا تعلق کھانا پینا مہیا کرنے سے ہو بغیر اس کے کہ آگ جلائی جائے۔لیکن کھانے پینے اور ازدواجی تعلقات سے قطعی پر ہیز کے بارہ میں وہ پابندی نہ تھی جو اسلام نے عائد کی ہے۔عہد قدیم سے اس امر کا بھی پتہ چلتا ہے کہ ازدواجی تعلقات سے بھی پرہیز کیا جائے۔عربوں میں بھی یہی دستور تھا۔(فتح الباری جز ۴ صفحہ ۱۶۷) شریعت اسلام نے طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک روزے کا وقت مقرر کیا ہے۔رات کا وقت اس سے مستی ہے۔تو رات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سبت کا روزہ جمعہ کے دن شام سے شروع کر کے دوسرے دن ظہر تک ختم کر دیا جا تا تھا۔مگر اس میں تحریف سے کام لیا گیا ہے کیونکہ تو رات میں روزے کا مفہوم ادا کرنے کے لئے یہ فقرہ موجود ہے : ” جان کو دکھ دینا ( احبار باب ۱۶ آیت ۲۹ تا ۳۱ - گنتی باب ۲۹ آیت ۷ ) لیکن کھانے پینے کی سہولت اور یہ آدھے دن کا روزہ اس مفہوم کے مطابق نہیں۔