صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 582
صحيح البخاري - جلد ٣ PAY ٣٠ - كتاب الصوم كُنتُمْ تَخْتَانُونَ اَنْفُسَكُمُ : اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہودیوں کے دستور کے مطابق رات کا وقت روزہ کا حصہ شمار کر کے تم صحابہ اپنی بیویوں کے پاس نہیں جایا کرتے تھے اور یہ اس لحاظ سے خیانت نفس ہے کہ وہ اپنے حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ازدواجی تعلقات کی غرض و غائت بقائے سلسلہ نسل ہے۔اس سے نفس کو محروم رکھنا درست نہیں۔اس آیت سے یہ سمجھنا کہ صحابہ کرام بھی اپنی بیویوں سے بحالت روزہ مباشرت کر کے الہی حکم کی خلاف ورزی کرتے تھے، درست نہیں کیونکہ اول تو اس بارہ میں ابھی تک ازدواجی تعلقات کا حکم نازل ہی نہ ہوا تھا۔یہ امر خیانت نفس تو کہلا سکتا ہے کہ نفس کو اس کے حق سے محروم رکھا جائے۔مگر الہی حکم کی خیانت نہیں کہلا سکتا جو بھی نازل ہی نہ ہوا تھا۔كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ عل الله إِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَائِمًا : جس واقعہ کا ذکر روایت نمبر ۱۹۱۵ میں ہے اُس میں نفس پر حد درجہ کی تختی کا ذکر ہے۔نہ صرف حضرت قیس بن صرمہ ہی نے بحالت روزہ اپنی جان پر سختی برداشت کی بلکہ اس میں یہ بھی صراحت ہے کہ صحابہ کرام اس قسم کی تختی اپنے نفس سے برتے تھے تو اس امر واقعہ کے خلاف آیت مذکورہ بالا سے مذکورہ نتیجہ اخذ کرنا کس طرح درست ہو سکتا ہے۔یہ واقعہ تو محولہ بالا آیت کا صحیح مفہوم بیان کرنے کی غرض سے درج کیا گیا ہے۔جن لوگوں نے آیت کا یہ مفہوم لیا ہے کہ صحابہ کرام بحالت روزہ ازدواجی تعلقات سے پر ہیز نہیں کرتے تھے۔انہوں نے آیت کے الفاظ مد نظر نہیں رکھے۔لفظ تَخْتَانُونَ، خَتَنَ سے ہے جس کے معنے کاٹنے اور کم کرنے کے ہیں۔اس سے لفظ ختنہ اور مختون ہے۔کہتے ہیں: عام مختون یعنی قحط کا سال۔(اقرب الموارد-ختن) اس اشتقاق کی رُو سے آیت کا مفہوم یہ ہے کہ تم اپنے نفسوں کو اُن کے حق سے محروم کرتے تھے۔غرض ایسے لوگوں نے آیت کا سیاق ملحوظ نہیں رکھا ورنہ لفظ تَخْتَانُونَ اور مندرجہ روایت کی تین شہادت تینوں باتیں ہی اُن کے خیال کو رڈ کرتی ہیں۔وَإِنَّ قَيْسَ ابْنَ صِرَمَةَ : دیگر روایات کے مطابق ان کا نام حضرت صرمہ بن ابی انس تھا۔اس لحاظ سے اس روایت میں تقلیب معلوم ہوتی ہے۔حضرت صرمہ بن ابی انس" مشہور صحابی ہیں جن کی کنیت ابو قیس تھی اور وہ زمانہ جاہلیت میں ہجرت سے قبل بت پرستی چھوڑ چکے تھے۔جب آنحضرت میں مدینہ تشریف لائے تو وہ بہت بوڑھے تھے۔انہوں نے مدینہ میں آکر وہاں کے مشرکین کو اسلام قبول کرنے کی تلقین کی تھی۔اس تعلق میں اُن کا یہ شعر مروی ہے :- يَقُولُ أَبُو قَيْسٍ وَأَصْبَحَ غَادِيًا إِلَّا مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ وَصَاتِي فَافُعَلُوا یعنی ابو قیس جبکہ اب کوچ کرنے والا ہے کہتا ہے کہ پہلے تم نے میری وصیت نہ مانی اب مان لو۔(فتح الباری جز ۴۶ صفحه ۱۶۷، ۱۶۸)