صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 44
صحيح البخاری جلد ۳ یم ٢٤ - كتاب الزكاة ارشاد فَنِعِمَّا هِيَ پرختم ہے جس سے ظاہر ہے کہ افراد کو خود دینے کی اجازت کا تعلق زکوٰۃ السر سے ہے ۔ اگلا باب ۱۵ بھی مذکورہ بالا اختلاف کے پیش نظر قائم کیا گیا ہے۔ قرآن حکیم نے صدقات کی ادائیگی میں پر حکمت صورت اختیار کی ہے۔ ایک معین نظام کے تحت صدقات کی ادائیگی افراد کا تعلق محتاجوں سے منقطع کر دیتی ہے۔ جس سے شفقت و رحمت کے جذبات مدھم پڑنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ صدقات اعلانیہ دینے میں جبر و اکراہ اور احسان مندی کی ص ن مندی کی صورت پیدا ہونے کا احتمال ہے۔ اس لئے اسلام نے دونوں طریق اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ علاوہ ازیں اسلامی تعلیم کی رو سے جہاں سوال کرنا ممنوع ہے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ وقار نفس قائم رکھا جائے اور انسان احساس کمتری سے محفوظ رہے۔ احوال ظاہرہ رہ پر زکوۃ عائد کی گئی ہے جو صدقہ اعلانیہ ہے اس میں اجتماعی تحفظ کی یقینی صورت ہے جو افراد کی مرض مرضی اور ان کے طوعی صدقات پر ترک نہیں کی جاسکتی اور نہ حکومت کے لئے ممکن ہے کہ وہ ہر طبقہ کے افراد کی ضرورتوں کا پورا علم رکھ سکے اور افراد ہی کو یہ علم ہو سکتا ہے کہ ان کے عزیز و عزیز و اقارب اور دور و نزدیک کے افراد میں سے کون اور کس حالت محتاجی میں ہیں۔ اس لئے اسلام نے اجتماعی اور انفرادی ضرورتوں کے تحفظ کی صورتیں اپنے احکام میں ملحوظ رکھی ہیں۔ بَاب ١٥ : إِذَا تَصَدَّقَ عَلَى ابْنِهِ وَهُوَ لَا يَشْعُرُ اگر اپنے بیٹے کو صدقہ دے جبکہ اسے معلوم نہ ہو ں ١٤٢٢ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ۱۴۲۲: محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے بیان کیا (کہا) حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ اسرائيل ( بن یونس ) نے ہم سے بیان کیا۔ ( انہوں نے کہا:) أَنَّ مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ البوالجویریہ (حطان بن خفاف ) نے ہمیں بتایا۔ حضرت معن بن یزید رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا، (کہا: ) رسول اللہ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سے میں نے اور میرے باپ ( حضرت یزید) اور صلى الله وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبِي وَجَدِّي وَخَطَبَ عَلَيَّ میرے دادا ( حضرت اخنس بن حبیب) نے بیعت کی اور فَأَنْكَحَنِي وَخَاصَمْتُ إِلَيْهِ وَكَانَ أَبِي آپ نے میرا رشتہ تجویز کیا اور نکاح پڑھایا اور میں آپ يَزِيدُ أَخْرَجَ دَنَانِيْرَ يَتَصَدَّقُ بِهَا کے پاس ایک مقدمہ لے کر گیا۔ میرے باپ حضرت فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ زیڈ نے کچھ اشرفیاں خیرات کرنے کے لئے نکالیں اور فَجِئْتُ فَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ وَاللهِ مسجد میں ایک آدمی کے پاس رکھ دیں۔ میں اس کے پاس آیا اور میں نے وہ اشرفیاں لے لیں اور اپنے باپ کے پاس مَا إِيَّاكَ أَرَدْتُ فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُوْلِ لے آیا۔ انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں تجھے دینا نہیں چاہتا الله اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَكَ مَا تھا۔ آخر میں نے ان کے خلاف رسول اللہ ﷺ کے