صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 561 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 561

صحيح البخاری جلد ٣ ۵۶۱ ٣٠ - كتاب الصوم رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الصِّيَامُ جُنَّةٌ فَلَا يَرْفُتْ وَلَا يَجْهَلْ وَإِنِ نے فرمایا: روزے ڈھال ہیں۔سو کوئی شخص فحش بات نہ کرے اور نہ جہالت کی بات ، اور اگر کوئی آدمی اُس امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ سے لڑے یا گالی دے تو چاہیے کہ اُس سے دو بار کہے مَرَّتَيْنِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوْفُ فَمِ کہ میں روزہ دار ہوں۔اس ذات کی قسم ہے جس کے الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيْحِ ہاتھ میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ الْمِسْكِ يَتْرُكُ طَعَامَهُ وَ شَرَابَهُ وَشَهْوَتَهُ کومشک سے زیادہ پسندیدہ ہے۔(اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) مِنْ أَجْلِي الصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ کہ وہ اپنا کھانا اور اپنا پینا اور اپنی شہوت میری خاطر چھوڑ دیتا ہے۔روزے میرے لئے ہیں اور میں ہی وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا۔اطرافه تشریح : * ۷۵۳۸ ،۷۹۲ ،۵۹۲۷ ،۱۹۰ اُس کا بدلہ ہوں اور نیکی کا بدلہ دس گنا ہے۔فَضْلُ الصَّوْمِ: روزہ تو رات میں بغرض کفارہ گناہ دائی قانون کے طور پر جاری کیا گیا تھا (احبار ۳۴۱) مگر اسلام میں روزہ بمنطوق آیت لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ جہاں گناہوں سے محفوظ رہنے کے لئے ڈھال ہے؛ وہاں اس کی علت غائی اس ابتدائی غرض سے بہت بلند و بالا تر بتائی گئی ہے جو اس جزا سے ظاہر ہے جس کے الفاظ ہیں کہ اَنَا اَجْزِى بِهِ۔یعنی میں اُس کا بدلہ ہوں گا۔یعنی وصال الہی کا حاصل ہونا جس میں روزہ دار خدا تعالیٰ کا محبوب بن جاتا ہے۔ایسا محبوب کہ اُس کے منہ کی بو مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پیاری ہے۔ظاہر ہے کہ محبت و عشق میں یہ وہ انتہائی مقام ہے جس میں نفرت اور ناپسندیدگی کا احساس باقی نہیں رہتا بلکہ سراسر محبت میں بدل جاتا ہے۔(دیکھئے روایت نمبر ۱۸۹۴) بَاب ۳ : الصَّوْمُ كَفَّارَةٌ روزہ گناہوں کا کفارہ ہے ١٨٩٥ :۱۸۹٥: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۱۸۹۵: علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا جَامِعٌ عَنْ أَبِي (بن عُيَين ) نے ہمیں بتایا۔جامع ( بن ابی راشد ) نے ہم وَائِلِ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ سے بیان کیا۔انہوں نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت اللهُ عَنْهُ مَنْ يَحْفَظُ حَدِيثًا عَنِ النَّبِيِّ حذیفہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: حضرت عمر نہ