صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 555 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 555

صحيح البخاری جلد ۳ ۲۹ - كتاب فضائل المدينة وَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهِيَ أَوْ بَأَ أَرْضِ اللَّهِ بنا اور اس کے بخار کو جحفہ کی طرف منتقل کردے۔قَالَتْ فَكَانَ يُطْحَانُ يَجْرِي نَجْلًا (حضرت عائشہ) کہتی تھیں : ہم مدینہ آئے اور وہ اللہ کی زمین میں سب سے زیادہ وباء زدہ مقام تھا۔انہوں نے کہا: بطحان نالے میں تھوڑا سا پانی بہتا تھا۔تَعْنِي مَاءً آجِنَّا۔اطرافه ،٣٩٢٦، ٥٦٥٤ ٥٦٧٧ ٦٣٧٢۔وہ پانی بھی بدمزہ بودار۔۱۸۹۰ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ١٨٩٠ بھی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ ہمیں بتایا۔انہوں نے خالد بن یزید سے، خالد نے سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ سعيد بن ابی ہلال سے سعید نے زید بن اسلم سے، زید عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عمر رے سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: اے اللہ ! مجھے اپنی راہ اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيْلِكَ میں شہادت نصیب کر اور تیرے رسول کے شہر میں میری وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ صَلَّى۔موت ہو۔(زید) بن زُریع نے روح بن قاسم سے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔وَقَالَ ابْنُ زُرَيْعٍ عَنْ نقل کیا۔انہوں نے زید بن اسلم سے، زید نے اپنی رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ماں سے، ان کی ماں نے حضرت حفصہ بنت عمر رضی عَنْ أُمِّهِ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ رَضِيَ الله عنہا سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ سَمِعْتُ عُمَرَ نَحْوَهُ مڑے اسی طرح سنا۔اور ہشام نے زید سے نقل کی۔عمر سے وَقَالَ هِشَامٌ عَنْ زَيْدٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ زید نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت حفصہ سے حَفْصَةَ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ۔روایت کی کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنا۔تشریح: باب نمبر ۱۲ کی تیسری روایت (نمبر ۱۸۹۰) میں حضرت عمر کی دعا کا ذکر بطور مثال کیا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ بالا دعا مہاجرین کے حق میں پوری ہوئی۔یعنی مدینہ منورہ سے وہ ویسے ہی محبت کرنے لگے جیسے کہ مکہ معظمہ سے۔اس خاتمہ سے ظاہر ہے کہ ان تمام باتوں میں فقہاء کے اس اختلاف کا جواب مد نظر ہے جس کا ذکر ابتداء میں ہے۔یعنی مسئلہ افضلیت۔