صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 544
صحيح البخاري - جلد ٣ ۵۴۴ ۲۹ - كتاب فضائل المدينة ۱۸۷٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۱۸۷۵: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام بن عروہ سے، أَبِيْهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ سُفْيَانَ ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عبد اللہ بن زبیر سے، حضرت ابن زبیر نے حضرت ابْنِ أَبِي زُهَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔وَسَلَّمَ يَقُوْلُ تُفْتَحُ الْيَمَنُ فَيَأْتِي قَوْمٌ آپ فرماتے تھے: بیمن فتح ہوگا تو کچھ لوگ اپنے اونٹ يُبِسُّونَ فَيَتَحَمَّلُوْنَ بِأَهْلِهِمْ وَمَنْ ہانکتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر والوں کو اور انہیں أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَّهُمْ لَوْ كَانُوْا جنہوں نے ان کی اطاعت کی سوار کر کے لے جائیں گے۔حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہوگا ؛ اگر وہ جانتے يَعْلَمُوْنَ وَتُفْتَحُ الشَّامُ فَيَأْتِي قَوْمَ ہوں اور شام فتح ہوگا تو کچھ لوگ اپنے اونٹ ہانکتے يُبِسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِهِمْ وَمَنْ ہوئے آئیں گے۔پھر وہ اپنے گھر والوں کو اور ان کو أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَّهُمْ لَوْ كَانُوا جنہوں نے اُن کی اطاعت کی سوار کر کے لے جائیں کی يَعْلَمُونَ وَتُفْتَحُ الْعِرَاقُ فَيَأْتِي قَوْمٌ گے۔حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہوگا؛ اگر وہ جانتے يُونَ فَيَتَحَمَّلُوْنَ بِأَهْلِهِمْ وَمَنْ ہوں۔اور عراق فتح ہوگا تو کچھ لوگ اپنے اونٹ ہانکتے أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَّهُمْ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُونَ۔تشریح: ہوئے آئیں گے۔پھر وہ اپنے گھر والوں کو اور ان کو جو اُن کی اطاعت کریں گے ؟ سوار کر کے لئے جائیں گے۔حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہوگا؟ اگر وہ جانتے ہوں۔لَنِيَّةُ الْوَدَاعِ: ثنية الوداع وہ موڑ ہے جہاں قاصدان حج کو دعاؤں کے ساتھ الوداع کیا جاتا ہے۔(عمدة القاری جزء ۱۰ صفحه ۲۳۸) بَاب ٦ : الْإِيْمَانُ يَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ ایمان سمٹ کر مدینہ میں پناہ لے گا ١٨٧٦ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ۱۸۷۶: ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ قَالَ حَدَّثَنِي انس بن عیاض نے ہمیں بتایا، کہا: عبیداللہ عمری )