صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 533
صحيح البخاری جلد۳ تشریح: Arr ۲۸ - كتاب جزاء الصيد حَيُّ النِّسَاءِ : روایت نمبر ۱۸۶۰ میں جو حوالہ حضرت عمرؓ کا دیا گیا ہے، اس سے مقصود واضح ہے کہ عورت کے لئے ولی کا اذن ضروری ہے اور سفر میں اس کے ساتھ اس کا محرم رشتہ دار ہونا چاہیے۔اگر نہ ملے تو قابل اعتبار شخص ؛ جیسا کہ باب کی روایات میں اس امر کی صراحت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو امہات المومنین کا درجہ حاصل تھا اور حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عبد الرحمن بن عوف کی حفاظت میں ان کو حج کے لئے بھیجا گیا۔روایت نمبر ۱۸۶۰) جو ( احمد بن محمد کا قول ) بطور حوالہ درج ہے، وہ بیہقی نے نقل کی ہے۔(سنن الکبری للبيهقي، كتاب الحج، باب حج النساء ، روایت نمبر ۸۴۰۴، جز ۴۰، صفحه ۳۲۶) حج میں عورت کے لئے مذکورہ بالا احتیاط کی ضرورت ہے۔امام شافعی کے نزدیک شرط امن ہے اور اگر ایک عورت کو اطمینان ہو تو قافلہ کے ساتھ اکیلی بھی جاسکتی ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۰ صفحہ ۲۲۰) باب ۲۷ : مَنْ نَّذَرَ الْمَشْيَ إِلَى الْكَعْبَةِ جس نے یہ نذر مانی کہ وہ کعبہ کو پیدل چل کر جائے گا ١٨٦٥ : حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ أَخْبَرَنَا ۱۸۶۵ : ( محمد ) بن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ (مروان) الْفَزَارِيُّ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيْلِ قَالَ فزاری نے ہمیں خبر دی کہ حمید طویل سے مروی ہے۔انہوں حَدَّثَنِي ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے کہا: ثابت نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت انس دینہ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى سے روایت ہے۔(انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے ایک بوڑھے کو دیکھا کہ وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان سہارا شَيْخًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ قَالَ مَا بَالُ لئے چلا جارہا ہے۔آپ نے فرمایا: اس کی یہ کیا حالت هَذَا قَالُوْا نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ قَالَ إِنَّ اللهَ ہے؟ انہوں نے کہا: اس نے نذر مانی تھی کہ وہ ( حج کیلئے ) عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ لَغَنِيٌّ وَأَمَرَهُ أَنْ پیدل جائے گا۔آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تو اس بات سے بے نیاز ہے کہ یہ اپنے تئیں دکھ میں ڈالے اور يُرْكَبَ۔اطرافه: ٦٧٠١۔آپ نے اس سے فرمایا : سوار ہو جاؤ۔١٨٦٦ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ ۱۸۶۶: ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ مُوسَى أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ أَنَّ ہشام بن یوسف نے ہمیں خبر دی۔ابن جریج نے ان ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي کو بتایا، کہا: سعید بن ابی ایوب نے مجھے خبر دی کہ