صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 38 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 38

صحيح البخاری جلد ۳ ۳۸ ٢٤ - كتاب الزكاة بَاب ۱۱ : فَضْلُ صَدَقَةِ الشَّحِيْحِ الصَّحِيحِ بخیل حریص جو تندرست ہو اُس کے صدقہ دینے کی فضیلت لِقَوْلِهِ: وَأَنْفِقُوا مِنْ مَّا رَزَقْنَكُمْ مِنْ الله تعالى ) فرماتا ہے: جو کچھ بھی ہم نے تم کو دیا ہے، قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اس سے خرچ کرو۔ پیشتر اس کے کہ تم میں سے کسی کو (المنافقون : (۱۱) الآية ۔ موت کا وقت آجائے۔ وَقَوْلِهِ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا ها نیز (اللہ تعالیٰ کا ) یہ قول کہ اے مومنو! جو کچھ ہم نے تم رَزَقْتُكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمُ لا بَيْعٌ کو دیا ہے، اس سے خرچ کرو پیشتر اس کے کہ وہ دن آ جائے جس میں نہ خرید و فروخت ہوگی ( اور نہ دوستی فِيهِ (البقرة: ٢٥٥) الآية۔ اور نہ سفارش) ١٤١٩: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ ۱۴۱۹ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا (کہا:) عبدالواحد ( بن زیاد ) نے ہم سے بیان کیا۔ عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ (انہوں نے کہا: ) عمارہ بن قعقاع نے ہمیں بتایا ( کہا:) حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ابو زرعہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ) ہم جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ انہوں نے کہا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا قَالَ أَنْ تَصَدَّقَ کے پاس آیا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ ! ثواب میں وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيْحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ كونسا صدقہ بڑھ کر ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تو صدقہ وَتَأْمُلُ الْغِنَى وَلَا تُمْهِلُ حَتَّى إِذَا کرے جب تو تندرست ہو۔ مال حاصل کرنے کی بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ قُلْتَ لِفُلَانٍ كَذَا خواہش رکھتا ہو اور بخیل ہو۔ محتاجی سے ڈرے اور مال وَلِفُلَانٍ كَذَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ۔ دار ہونے کی امید رکھتا ہو اور اتنی دیر نہ کر کہ جان حلق میں آ پہنچے اور تو کہے کہ فلاں کو اتنا دینا۔ فلاں کو اتنا دینا۔ حالانکہ فلاں کا تو ہو ہی چکا ہے۔ اطرافه: ٢٧٤٨