صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 511
صحيح البخاری جلد۳ ۵۱۱ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد ابْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ سے، انہوں نے عبدالرحمن اعرج سے، عبدالرحمن الْأَعْرَجِ عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نے حضرت ابن بحسینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔قَالَ احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِلَحْيِ جَمَلٍ فِي درمیان پچھنا لگوایا جبکہ آپ مقام لحي جمل میں وَسَطِ رَأْسِهِ۔اطرافه: ٥٦٩٨۔تشریح بحالت احرام تھے۔الْحِجَامَةُ لِلْمُحْرِمِ : اس باب میں سَفَكُ الدِّمَاء یعنی خون بہانے کے تعلق میں استثنائی حالات کا ذکر کیا گیا ہے۔عنوانِ باب میں جو حضرت ابن عمر کا حوالہ دیا گیا ہے۔وہ سعید بن منصور نے بسند مجاہد موصول نقل کیا ہے اور حضرت عبد اللہ بن عمر کے بیٹے کا نام واقد بیان کیا گیا ہے۔جو سفر مکہ میں راستہ ہی میں بیمار ہو گیا تھا اور جس کی وجہ سے پچھنا لگوانا پڑا۔( فتح الباری جز پہ صفحہ ۶۶) لفظ مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ طِيب سے امام موصوف نے طبری کی روایت کی طرف اشارہ کیا ہے جو بسند حسن بصری مروی ہے کہ اگر محرم کو سر میں زخم آئے تو کوئی حرج نہیں کہ زخم کے ارد گرد کے بال منڈوائے جائیں اور ایسی دوائی سے علاج کیا جائے جس میں خوشبو نہ ہو۔(فتح الباری جز یہ صفحہ ۶۶) ان حوالوں سے عنوانِ باب کا مضمون ظاہر ہے۔دراصل فقہاء نے بحالت احرام پچھنا لگوانا حرام قرار دیا ہے۔کیونکہ اس سے بال منڈوانے ہوتے ہیں اور اگر منڈوانے نہ پڑیں تو جمہور کے نزدیک جائز ہے۔مگر امام مالک نے اسے ناپسند کیا ہے اور حسن بصری وغیرہ کا فتویٰ یہ ہے کہ ایسی صورت میں فدیہ دیا جائے۔(تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جز ۴۰ صفحه ۶۷ - عمدۃ القاری جزء ۱۰ صفحه ۱۹۴۱۹۳) مذکورہ بالا باب کی دونوں روایتوں میں فدیہ کا کوئی ذکر نہیں۔بغرض علاج پچھنے لگانا اور دوائی سے علاج کرنا دونوں جائز ہیں۔وَهُوَ مُحْرِمٌ بِلَحْيِ جَمَلٍ : لي جمل ایک مقام کا نام ہے جو سقیا سے سات میل کے فاصلہ پر ہے اور یہاں سے جحفہ کی گھائی شروع ہوتی ہے۔وہاں اُن دنوں ایک کنواں بھی تھا جس کا ذکر کتاب التیمم میں حضرت ابو جہم کی روایت ( نمبر ۳۳۷) میں گذر چکا ہے۔محولہ بالا واقعہ حجتہ الوداع کے سفر کا ہے۔لَعَلَّهُ سَمِعَهُ مِنْهُمَا : علامہ کرمانی " کا خیال ہے کہ روایت نمبر ۱۸۳۵ میں یہ ذکر ہے کہ عطاء بن ابی رباح نے حضرت ابن عباس سے براہ راست سنا اور پھر یہ ذکر بھی ہے کہ یہ روایت انہوں نے بالواسطہ طاؤس سنی اور اس اختلاف کا حل آخر میں کیا گیا ہے کہ دونوں باتیں درست ہیں۔لیکن ان کا یہ موقف کہ عطاء بن ابی رباح نے طاؤس کے واسطہ سے