صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 512 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 512

صحيح البخاری جلد۳ ۵۱۲ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد حضرت ابن عباس سے سنا ؛ اس حدیث کی دوسری سندوں کی رو سے درست نہیں ہے۔کیونکہ مسلم، ابوداؤد، ترندی اور نسائی کے میں واضح ذکر ہے کہ عمرو بن دینار ہی نے یہ روایت عطاء اور طاؤس دونوں سے بیان کی ہے ؛ نہ کہ عطاء نے طاؤس سے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۰ صفحه ۱۹۳) ( فتح الباری جز ۴۰ صفحه ۶۶، ۶۷) بَاب ۱۲: تَزْوِيْجُ الْمُحْرِمِ محرم کا نکاح کرنا :۱۸۳۷ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ۱۸۳۷: ابومغیرہ عبدالقدوس بن حجاج نے ہم سے عَبْدُ الْقُدُّوْسِ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا بیان کیا کہ اوزاعی نے ہمیں بتایا۔عطاء بن ابی رباح الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ نے ہم سے بیان کیا۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ میمونہ سے نکاح کیا جبکہ آپ بحالت احرام تھے۔کا ميمونة وهو محرم اطرافه ٤٢٥٨ ٤٢٥٩، ٥١١٤۔تشریح: تَزْوِيجُ الْمُحْرِمِ فقہاء نے بحالت احرام مباشرت اور عقد نکاح میں فرق کیا ہے۔امام ابوحنیفہ اور فقہاء کوفہ نے عقد نکاح جائز قرار دیا ہے مگر جمہور کے نزدیک جائز نہیں۔(عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۱۹۵) (فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۶۸) امام مسلم کی روایت میں جو حضرت عثمان سے مرفوعا منقول ہے، آیا ہے کہ محرم نہ خود نکاح کرے نہ کوئی نکاح پڑھے، حتی کہ پیغام نکاح بھی نہ دے یہ روایت نمبر ۱۸۳۷ سے جواز کا ثبوت ملتا ہے۔جس میں حضرت میمونہ کے نکاح کا ذکر ہے۔مگر عنوان باب میں امام بخاری نے کسی یقینی رائے کا اظہار نہیں کیا۔جس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس بارے میں روایتیں مختلف ہیں۔اس واقعہ کے متعلق حضرت عائشہؓ سے اور حضرت ابو ہریرہ سے کی روایتوں میں بھی تصریح ہے کہ آنحضرت ﷺ بحالت احرام تھے جبکہ آپ کا نکاح حضرت میمونہ سے ہوا۔(عمدۃ القاری جزء ۱۰ صفحہ ۱۹۵) جبکہ خود نے (مسلم، کتاب الحج، باب جواز الحجامة للمحرم) (ابوداؤد، کتاب المناسک، باب المحرم يحتجم) (ترمذی، کتاب الحج، باب ما جاء فى الحجامة للمحرم) (نسائی، کتاب مناسك الحج، باب الحجامة للمحرم) (مسلم، كتاب النكاح، باب تحريم نكاح المحرم وكراهة خطبته) سنن الكبرى للبيهقى، جماع ابواب الأنكحة التي نهى عنها، باب نكاح المحرم، روایت نمبر ۱۳۹۸۹، جزء صفحه ۲۱۲) (السنن الكبرى للنسائي، كتاب النكاح، ذكر الإختلاف في تزويج ميمونة، روایت نمبر ۵۴۰۹، جز ۳۰ صفحه ۲۸۹) (شرح معانی الآثار، کتاب مناسك الحج، باب نکاح المحرم، جزء ۲ صفحه ۲۷) (سنن الدارقطني، كتاب النكاح باب المهر، روایت نمبر ۷۱، جزء۳ صفحه ۲۶۳)