صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 507 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 507

صحيح البخاری جلد۳ ۵۰۷ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي سَاعَةً مِنْ نَّهَارٍ وَقَدْ اور مجھے بھی دن کی ایک گھڑی تک اجازت دی اور اس عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا کی حرمت آج پھر ویسی ہی قائم ہو گئی ہے جیسی کل تھی اور بِالْأَمْسِ وَلْيُبَلّغ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَقِيْلَ چاہیے کہ جو حاضر ہو وہ غیر حاضر کو پہنچا دے۔حضرت لِأَبِي شُرَيْحٍ مَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو قَالَ أَنَا ابوشریح سے کہا گیا: عمرو بن سعید ) نے آپ سے کیا کہا؟ انہوں نے کہا: ابو شریح ! میں یہ بات آپ سے زیادہ أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ إِنَّ جانتا ہوں۔حرم باغی کو پناہ نہیں دیتا اور نہ اس شخص کو جو کر الْحَرَمَ لَا يُعِيْدُ عَاصِيًّا وَلَا فَارًّا بِدَمٍ خون کر کے بھاگا ہو اور نہ اس شخص کو جو کوئی خرابی کر کے بھاگا ہو، ایسی خرابی جو کہ مصیبت کا باعث ہو۔وَلَا فَارًّا بِخُرْبَةٍ خُرْبَةٌ بَلِيَّةٌ۔اطرافه: ١٠٤، ٤٢٩٥۔تشریح : لَا يُعْضَدُ شَجَرُ الْحَرَمِ: حرم وہ علاقہ ہے جو محفوظ قرار دیا جائے اور اس میں ہر لحاظ سے امن ہو۔کسی قسم کا ظلم ، فتنہ وفساد اس میں برپا نہ کیا جائے۔عربوں کو حرم مکہ کا اس قدر ادب لحاظ تھا کہ اس میں قاتل سے بدلہ لینا بھی جائز نہیں سمجھتے تھے۔تین مہینوں کو وہ ماہ حرام اس لئے کہتے تھے کہ ان کے نزدیک ان میں قتل وغارت ظلم و تعدی جائز نہ تھی۔عنوان باب میں حضرت ابن عباس کا جو حوالہ دیا گیا ہے؛ اس کے لئے دیکھئے روایت نمبر ۱۸۳۳، ۱۸۳۴۔اور عمرو بن سعید کا واقعہ کتاب العلم زیر باب ۳۷ روایت نمبر ۱۰۴ میں گذر چکا ہے۔بَاب ٩ : لَا يُنقَّرُ صَيْدُ الْحَرَم حرم کے شکار کو بد کا یا نہ جائے ۱۸۳۳ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ۱۸۳۳: محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ نے ہمیں بتایا کہ خالد نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ الله عکرمہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکہ قَالَ إِنَّ اللهَ حَرَّمَ مَكَّةَ فَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ کو حرم قرار دیا ہے۔مجھ سے پہلے کسی کے لئے یہ حلال قَبْلِي وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي وَإِنَّمَا نہیں ہوا اور نہ میرے بعد کسی کے لئے حلال ہوگا۔أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ لَا يُخْتَلَى میرے لئے بھی تو صرف دن کی ایک گھڑی بھر ہی حلال