صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 506
صحيح البخاری جلد ۳ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد بَاب ۸ : لَا يُعْضَدُ شَجَرُ الْحَرَمِ حرم کے درخت نہ کاٹے جائیں وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَن اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُعْضَدُ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا کانٹا نہ توڑا جائے۔شَوْكُهُ۔۱۸۳۲ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ :۱۸۳۲: قتیبہ بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِي عَنْ ليث بن سعد ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سعید بن أَبِي شُرَيْحِ الْعَدَوِيَ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ الى سعيد مقبری سے، سعید نے حضرت ابو شریح عدوی سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ سے روایت کی کہ انہوں نے عمرو بن سعید سے کہا اور ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ وہ مکہ کی طرف فوجیں بھیج رہے تھے۔اے امیرا مجھے بِهِ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجازت دیں کہ میں آپ سے ایک بات بیان کروں لِلْغَدِ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ فَسَمِعَتْهُ أُذُنَايَ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے روز فرمائی تھی۔میرے دونوں کانوں نے وہ سنی اور میرے دل نے محفوظ رکھی اور میری دونوں آنکھیں آپ کو دیکھ رہی تھیں جب آپ نے وہ بات فرمائی۔آپ نے اللہ کی حمد وثنا کی۔پھر فرمایا کہ مکہ کو اللہ تعالیٰ نے حرم قرار دیا ہے اور لوگوں نے قرار نہیں دیا۔کسی وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يُسْفِكَ بِهَا دَمًا وَلَا شخص کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو؟ يَعْضُدَ بِهَا شَجَرَةً فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ جائز نہیں کہ وہاں خون ریزی کرے یا درخت کاٹے۔لِقِتَالِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اگر کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائی کی وجہ سے وَسَلَّمَ فَقُوْلُوْا لَهُ إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ جواز کی صورت نکالے تو اسے کہو کہ اللہ نے اپنے رسول صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَأْذَنْ لَّكُمْ ﷺ کو اجازت دی تھی اور تمہیں اجازت نہیں دی۔وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِيْنَ تَكَلَّمَ بِهِ إِنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ مَكَةَ حَرَّمَهَا اللهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ صلى الله