صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 504
صحيح البخاری جلد ۳ ۵۰۴ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد اقْتُلُوْهَا فَابْتَدَرْنَاهَا فَذَهَبَتْ فَقَالَ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مارڈالو تو ہم جلدی النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُقِيَتْ سے اس پر جھپٹے تو وہ چلا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيْتُمْ شَرَّهَا ۔ فرمایا: جانے دو تمہارے شر سے وہ بچایا گیا۔ تم اس کے شر سے بچائے گئے ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ إِنَّمَا أَرَدْنَا بِهَذَا { ابو عبد الله (امام بخاری) نے کہا: اس حدیث کے أَنَّ مِنِّي مِنَ الْحَرَمِ وَأَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْا ذکر سے ہماری یہ مراد ہے کہ منی حرم کا حصہ ہے اور انہوں بِقَتْلِ الْحَيَّةِ بَأْسًا ۔ } اطرافه: ۳۳۱۷، ۱۹۳۰، 4931، 4934۔ نے سانپ کے مارنے میں کوئی حرج نہیں دیکھا۔} ۱۸۳۱: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ ۱۸۳۱: اسماعیل ( بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ سے، ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی وَسَلَّمَ قَالَ لِلْوَزَغِ فُوَيْسِقٌ وَلَمْ أَسْمَعْهُ کو بھی موذی بتایا اور میں نے آپ سے نہیں سنا کہ أَمَرَ بِقَتْلِهِ۔ اطرافه: ٣٣٠٦۔ آپ نے اس کے مارنے کا ارشاد فرمایا ہو۔ تشريح : مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَاتِ: موذی جانور بحالت احرام مارے جاسکتے ہیں۔ اس تعلق میں چھ روایتیں بیان کی گئی ہیں جو ایک دوسرے کے مضمون کو مکمل کرتی ہیں۔ پہلی روایت امام مالک کی ہے جو یہاں مختصر منقول ہے۔ موطا میں یہی روایت بسند سالم بن عبداللہ مروی ہے۔ پانچ جانور کوا، چیل، بچھو، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔ موذی قرار دیئے گئے ہیں۔ نیز عبد اللہ بن دینار کی سند کو جو پہلی روایت سے معطوف بتایا گیا ہے، اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ روایت بطور تمہ نقل کی گئی ہے۔ یہ روایت بھی موطا امام مالک میں مذکور ہے۔ (مؤطا مالک، کتاب الحج، باب ما يقتل المحرم من الدواب دوسری روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی کا نام مذکور نہیں۔ لیکن بعض روایتوں میں مذکور ہے۔ اس طرح پانچ کی تعداد کا ذکر پہلی میں ہے اور دوسری میں نہیں۔ یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔ (فتح الباری جزء ۴ حاشیہ صفحہ ۴۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔