صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 505 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 505

صحيح البخاری جلد ۳ ۵۰۵ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد امام مسلم کی روایتوں میں صرف چار جانور موذی بتائے گئے ہیں ہے اور اگر سانپ اور چھپکلی کو شمار کیا جائے ؟ جن کا دوسری بعض روایتوں میں ذکر آیا ہے (دیکھئے روایات نمبر ۱۸۳۰، ۱۸۳۱) تو یہ کل جانورسات ہوتے ہیں، جنہیں بحالت احرام مارا جا سکتا ہے۔ اس تعلق میں فقہاء کی طرف سے یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا دوسرے موذی جانوروں کو ان پر قیاس کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ یا نہیں؟ حضرت ابو ہریرہ کی روایت، جو ابن خزیمہ نے نقل کی ہے؛ اس میں بھیڑیئے اور چیتے کا بھی ذکر ہے ہے اسی طرح ابن ابی شیبہ ہے اور سعید بن منصور اور ابوداؤد کی اس تعلق میں بعض روایتیں جو مرسل ہیں نقل کی ہیں۔ ان کے راوی معتبر ہیں۔ ان میں بھی سانپ اور بھیڑیئے اسی فہرست میں شمار کئے گئے ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۴ صفحہ ۴۸) لہذا جمہور کا مذہب اس بارہ میں یہ ہے کہ مذکورہ بالا جانوروں پر دیگر موذی جانوروں کا قیاس کرنا اور انہیں بحالت احرام بوقت ضرورت مارنا جائز ہوگا اور ان کا یہ بھی فتویٰ ہے کہ محرم کے لئے یہ استفسار بطور وجوب نہیں بلکہ رخصت و اجازت ہے۔ یعنی بلا وجہ حرم کے اندر ان جانوروں کو قتل کرنے کے لیے تلاش کرتے پھرنا مناسب نہیں ۔ احناف نے یہ قیاس تسلیم نہیں کیا اور بحالت احرام انہی جانوروں کو قتل کرنا جائز سمجھا ہے جن کا ذکر مستند احادیث میں وارد ہے اور یہ اس وقت جب ان سے ایذارسانی کا خوف ہو ورنہ نہیں اور بے ضرر حالت میں ان جانوروں کا مارنا پسندیدہ نہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۴ صفحه ۵۳٬۵۲) كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ : فسوق کے معنی حدود سے تجاوز کرنا۔ ان جانوروں کا طبعی حدود سے تجاوز کرنا بھی ان کی ایذاد ہی اور ضرر رسانی ہے۔ مثلاً کوا اور چوہا فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور چیل چوزے اٹھا کر لے جاتی ہے اور چھپکلی بھی بعض وقت نقصان دہ ہوتی ہے۔ بلکہ تجربہ سے ثابت ہوا ہے کہ اگر کھانے میں پڑ جائے تو ہلاکت کا موجب ہوتی ہے۔ اسے فویسق بھی کہا ہے۔ روایت نمبر ۱۸۳۱ میں حضرت عائشہ کی طرف سے تشریح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نے اسے مار ڈالنے کے لئے نہیں فرمایا۔ حضرت سعد بن ابی ابی وقاص وقاص کی کی روایت میں اس کے کے ۔ مارنے کا ذکر ہے ہے سے سے چھپکلی کے کے بارہ میں مختلف روایتیں ہیں۔ امام مالک سے مروی ہے : سے مروی ہے: لَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ الْوَزَعَ ۔ یعنی محرم چھپکلی نہ مارے۔ عطاء سے پوچھا گیا کہ آیا چھپکلی حرم میں ماری جا سکتی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ إِذَا آذَاكَ فَلَا بَأْسَ بِقَتْلِهِ ۔ یعنی جب تجھے ایزادے تو اس کے مارنے میں مضائقہ نہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۴ صفحه ۵۴) امام بخاری کے نزدیک یہ روائتیں پایہ ثبوت تک نہیں پہنچیں ۔ اس لئے انہوں نے نظر انداز کر دی ہیں ۔ کوے سے مراد غذاف یعنی پہاڑی کو ا ہے جو گر کی طرح بڑا ہوتا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۲۰ صفحہ ۵۰ ) (مسلم، کتاب الحج، باب ما يندب للمحرم وغيره قتله من الدواب في الحل والحرم) (صحيح ابن خزيمة، كتاب المناسک، ذکر الدواب التي أبيح للمحرم قتلها، روایت ۲۶۶۶ جز ۴۰ صفحه ۱۹۰) (مصنف ابن ابي شيبة، كتاب الحج، باب ما يقتل المحرم، روایت نمبر ۱۴۸۲۳، جز ۳۶ صفحه ۳۵۰) (ابوداؤد، کتاب المناسك، باب ما يقتل المحرم من الدواب (بخاری، کتاب بدء الخلق، باب خير مال المسلم غنم يتبع بها شعف الجبال )