صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 505
صحيح البخاری جلد ۳ ۵۰۵ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد امام مسلم کی روایتوں میں صرف چار جانور موذی بتائے گئے ہیں۔یے اور اگر سانپ اور چھپکلی کو شمار کیا جائے ، جن کا دوسری بعض روایتوں میں ذکر آیا ہے (دیکھئے روایات نمبر ۱۸۳۰، ۱۸۳۱) تو یہ کل جانور سات ہوتے ہیں، جنہیں بحالت احرام مارا جا سکتا ہے۔اس تعلق میں فقہاء کی طرف سے یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا دوسرے موذی جانوروں کو ان پر قیاس کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ حضرت ابو ہریرہ کی روایت؛ جو ابن خزیمہ نے نقل کی ہے؛ اس میں بھیڑ یئے اور چیتے کا بھی ذکر ہے۔اسی طرح ابن ابی شیبہ اور سعید بن منصور اور ابو داؤد کی اس تعلق میں بعض روایتیں جو مرسل ہیں نقل کی ہیں۔ان کے راوی معتبر ہیں۔ان میں بھی سانپ اور بھیڑیئے اس فہرست میں شمار کئے گئے ہیں۔( فتح الباری جز ۴ صفحہ ۴۸) لہذا جمہور کا مذہب اس بارہ میں یہ ہے کہ مذکورہ بالا جانوروں پر دیگر موذی جانوروں کا قیاس کرنا اور انہیں بحالت احرام بوقت ضرورت مارنا جائز ہوگا اور ان کا یہ بھی فتویٰ ہے کہ محرم کے لئے یہ استفسار بطور وجوب نہیں بلکہ رخصت واجازت ہے۔یعنی بلا وجہ حرم کے اندر ان جانوروں کو قتل کرنے کے لیے تلاش کرتے پھرنا مناسب نہیں۔احناف نے یہ قیاس تسلیم نہیں کیا اور بحالت احرام انہی جانوروں کو قتل کرنا جائز سمجھا ہے جن کا ذکر مستند احادیث میں وارد ہے اور یہ اس وقت جب ان سے ایذارسانی کا خوف ہو ورنہ نہیں اور بے ضرر حالت میں ان جانوروں کا مارنا پسندیدہ نہیں۔(فتح الباری جز ۴۶ صفہ ۵۳،۵۲) كُلُهُنَّ فَاسِقٌ : فسوق کے معنی حدود سے تجاوز کرنا۔ان جانوروں کا طبعی حدود سے تجاوز کرنا بھی ان کی ایذا دہی اور ضرر رسانی ہے۔مثلاً کوا اور چوہا فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور چیل چوزے اٹھا کر لے جاتی ہے اور چھپکی بھی بعض وقت نقصان دہ ہوتی ہے۔بلکہ تجربہ سے ثابت ہوا ہے کہ اگر کھانے میں پڑ جائے تو ہلاکت کا موجب ہوتی ہے۔اسے فویسق بھی کہا ہے۔روایت نمبر ۱۸۳۱ میں حضرت عائشہ کی طرف سے تشریح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مار ڈالنے کے لئے نہیں فرمایا۔حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت میں اس کے مارنے کا ذکر ہے۔چھپکلی کے بارہ میں مختلف روایتیں ہیں۔امام مالک سے مروی ہے: لَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ الْوَزَع یعنی محرم چھپکی نہ مارے۔عطاء سے پوچھا گیا کہ آیا چھپکلی حرم میں ماری جاسکتی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اِذَا آذَاكَ فَلا بَأْسَ بِقَتْلِهِ۔یعنی جب تجھے ایزادے تو اس کے مارنے میں مضائقہ نہیں۔(فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۵۴) امام بخاری کے نزدیک یہ روائتیں پایہ ثبوت تک نہیں پہنچیں۔اس لئے انہوں نے نظر انداز کر دی ہیں۔کوے سے مراد غداف یعنی پہاڑی کوا ہے جو گڑ کی طرح بڑا ہوتا ہے۔(فتح الباری جز ۲ صفحہ ۵۰) (مسلم، كتاب الحج، باب ما يندب للمحرم وغيره قتله من الدواب في الحل والحرم) (صحيح ابن خزيمة، كتاب المناسك، ذكر الدواب التى أبيح للمحرم قتلها، روایت ۲۶۶۶ جز ۴ صفحه ۱۹۰) مصنف ابن ابي شيبة كتاب الحج، باب ما يقتل المحرم، روایت نمبر ۱۴۸۲۳، جز ۳۶ صفحه ۳۵۰) ابوداؤد، کتاب المناسک، باب ما يقتل المحرم من الدواب) ۵ (بخاری، کتاب بدء الخلق، باب خير مال المسلم غنم يتبع بها شعف الجبال )