صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 497 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 497

صحيح البخاری جلد۳ ۴۹۷ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد وَإِنَّ عِنْدَنَا فَاضِلَةً فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ یا رسول اللہ ! ہم نے گورخر کا شکار کیا ہے اور ہمارے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ كُلُوْا پاس کچھ گوشت بچا ہوا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَهُمْ مُّحْرِمُونَ۔نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: کھاؤ۔حالانکہ وہ بحالت احرام تھے۔اطرافه ۱۸۲۱، ۱۸۲۳ ، ۱۸۲٤ ، ۲۵۷۰، ۲۸۵، ۲۹۱۴، ٤١٤۹، ٥٤٠٦، ٥٤٠٧، ٥٤٩٠ ٥٤٩١ ٥٤٩٢ تشریح کا ہنسنا گویا اس غرض سے تھا کہ بے احرام کو اس سے اشارہ کیا گیا ہے کہ جانور کو دیکھے اور اسے شکار کرے؛ مگر ایسا نہیں۔امام بخاری نے اس غلط نہی کو دور کیا ہے۔حضرت ابو قتادہ کی روایت مختلف سندوں اور مختلف الفاظ سے مروی ہے۔بعض راویوں کے الفاظ سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ ان کا ہنسنا گویا حضرت ابوقتادہ کو اشارہ کرنا تھا۔مگر روایت نمبر ۱۸۲۲ کے الفاظ فَجَعَلَ بَعْضُهُمُ يَضْحَكُ إِلَى بَعْضٍ سے ظاہر ہے کہ وہ آپس میں مذاق کر رہے تھے ؛ نہ کہ حضرت ابوقتادہ سے؛ جن کی توجہ دوسری طرف تھی اور گور خر کا دیکھنا اتفاق کی بات تھی۔یہ واقعہ ۶ ھ کا ہے، جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے لئے نکلے اور مقام حدیبیہ پر ڈیرہ کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت میں صحابہ کرام کا تزکیہ نفس بلند پایہ تھا اور وہ اچھی طرح سمجھتے تھے کہ محرم کو شکار کے لئے اشارہ کرنا بھی جائز نہیں۔تقویٰ کی نازک حدود کا انہیں بخوبی علم تھا اور نیکی بدی جائز و ناجائز کے بارہ میں ان کا احساس یہاں تک ترقی یافتہ تھا کہ غیر محرم کا شکار کھانا بھی مکروہ سمجھتے تھے۔اس لئے بعض روایتوں کے الفاظ سے جو پایا جاتا ہے کہ حضرت ابو قتادہ کو اشارہ کیا گیا ہے، درست نہیں۔غیقہ لعین اور شقیا جگہوں کے نام ہیں۔اول الذکر بنی غفار کے علاقہ میں ہے۔جہاں کنواں تھا جس میں رضوی پہاڑ کا پانی جمع ہوتا ہے اور یہاں سے پانی کا نالہ سمندر میں گرتا ہے۔جب آپ روحاء میں پہنچے تو آپ کو اطلاع ملی کہ عقیقہ کی وادی میں دشمن گھات لگائے آپ کے گزرنے کا انتظار کر رہا ہے تو آپ نے اپنا راستہ تبدیل کیا اور صحابہ میں إِذَا رَأَى الْمُحْرِمُونَ صَيْدًا فَضَحِكُوا : عنوان باب سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ احرام والے سے ایک دستہ اس طرف بھیجا۔حضرت ابوقتادہ بھی اس دستہ میں تھے۔(فتح الباری جز ۴۰ صفحه ۳۱- زیر شرح باب ۲) قاحہ وادی سقیا سے ایک میل کے فاصلہ پر ہے اور مدینہ سے تیسری منزل ہے۔مقامات مذکورہ اس راستے پر واقع ہیں۔(فتح الباری جز ۴۰ صفحہ ۳۶- زیر شرح باب ۴) حضرت ابو قتادہ نے احرام اس لئے نہیں باندھا تھا کہ دشمنوں سے مٹھ بھیڑ کا اندیشہ ہے اور بحالت احرام لڑ نا حرام ہے۔