صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 498
صحيح البخاری جلد ۳ ۴۹۸ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد بَاب : لا يُعِيْنُ الْمُحْرِمُ الْخَلَالَ فِي قَتل الصيد محرم غیر محرم کو شکار مارنے میں مددنہ دے ۱۸۲۳ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۱۸۲۳: عبد اللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔صالح بن کیسان كَيْسَانَ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ نَّافِعِ مَوْلَىٰ نے ہم سے بیان کیا۔ابو قتادہ کے آزاد کردہ غلام نافع أَبِي قَتَادَةَ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ ابو محمد سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت ابو قتادہ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رضی اللہ عنہ سے سنا۔انہوں نے کہا: ہم مدینہ سے وَسَلَّمَ بِالْقَاحَةِ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى تین منزل پر مقام قاصہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ثلاث ح۔وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ حَدَّثَنَا اور علی بن عبد اللہ نے بھی ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ (بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔صالح بن کیسان نے ہم أَبِي مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللہ سے بیان کیا۔انہوں نے ابو محمد سے، ابو محمد نے حضرت عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ الوقادہ ہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم وَسَلَّمَ بِالْقَاحَةِ وَمِنَّا الْمُحْرِمُ وَمِنَّا نبی مہ کے ساتھ مقام قاحہ میں تھے اور ہم میں سے کوئی محرم تھا اور کوئی غیر محرم۔میں نے اپنے ساتھیوں غَيْرُ الْمُحْرِمِ فَرَأَيْتُ أَصْحَابِي کو دیکھا کہ وہ کوئی چیز ایک دوسرے کو دکھارہے ہیں۔يَتَرَاءَوْنَ شَيْئًا فَنَظَرْتُ فَإِذَا حِمَارُ وَحْشِ يَعْنِي وَقَعَ سَوْطُهُ فَقَالُوْا لَا میں نے جو نظر اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک گورخر ہے۔۔ان کا کوڑا گر گیا تو ساتھیوں نے کہا: ہم کسی چیز نُعِيْنُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ إِنَّا مُحْرِمُونَ سے بھی اس گورخر کے خلاف آپ کی مدد نہیں کریں فَتَنَا وَلْتُهُ فَأَخَذْتُهُ ثُمَّ أَتَيْتُ الْحِمَارَ مِنْ گے۔کیونکہ ہم حالت احرام میں ہیں۔(حضرت ابو قتادہ وَرَاءِ أَكَمَةِ فَعَقَرْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ نے کہا: میں نے خود ہی ہاتھ بڑھا کر لے لیا۔پھر اس أَصْحَابِي فَقَالَ بَعْضُهُمْ كُلُوْا وَقَالَ گورخر کے پاس ایک ٹیلے کے پیچھے سے آیا اور اس کو