صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 490 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 490

صحيح البخاری جلد ۳ ۴۹۰ بَابِ ۱۰ : قَوْلُ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجَ (البقرة : ١٩٨) ٢٧- كتاب المحصر اللہ عزوجل کا یہ فرمانا یعنی حج میں کوئی نافرمانی کی بات نہ ہو اور نہ کوئی جھگڑا ۱۸۲۰ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۱۸۲۰ محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ أَبِي کیا کہ سفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے منصور حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سے ، منصور نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابو هريره لبہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُتْ وَلَمْ ﷺ نے فرمایا: جس نے اس گھر کا حج کیا اور شہوت يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمٍ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ۔کی کوئی بات نہ کی اور نہ نافرمانی کی تو وہ اس دن کی طرح لوٹا ؛ جس دن کہ اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔اطرافه: ۱۵۲۱، ۱۸۱۹ تشریح: فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَقِّ : باب نمبر 4 میں مذکورا بو حازم کی اس روایت کے لئے دیکھئے روایت نمبر ۱۵۲۱؛ جو معمولی سے لفظی اختلاف کے ساتھ اس روایت کے ہم معنی ہے۔نیز باب میں بھی یہی روایت مذکور ہے۔اس میں بجائے رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ کے رَجَعَ كَيَوْمٍ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ مروی ہے۔دونوں فقروں میں معنی کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں۔یہی روایت جامع ترندی میں منصور سے بھی بسند ابن عیینہ منقول ہے۔اس میں یہ الفاظ ہیں: غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔(ترمذى، كتاب الحج، باب ما جاء في ثواب الحج والعمرة) اور صحیح مسلم میں بحوالہ جزیرہ منصور کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: مَنْ أَتَى هَذَا الْبَيْتَ۔۔۔۔۔(مسلم، کتاب الحج، باب فى فضل الحج والعمرة ويوم عرفة ان الفاظ میں عمومیت ہے ، خواہ حج کے لئے آئے یا عمرہ کے لئے۔حدیث محولہ بالا میں فسوق کا ذکر تو ہے مگر جدال کا نہیں۔عنوان باب قرآن مجید کی آیت پر مبنی ہے۔فُسُوق کے معنی شریعت کی حدود سے نکلنا اور جدال کے معنی جھگڑا کرنا۔اس تعلق میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ باتیں فحش گوئی، بے حیائی، حدود شریعت کی خلاف ورزی اور لڑائی جھگڑے وغیرہ سے اسلامی شریعت نے مطلق منع کیا ہے۔حج کے ایام میں ان کی ممانعت کی کیا خصوصیت ہے؟ آیا حج میں یہ باتیں نہ کی جائیں تو کیا بعد کو جائز ہوں گی۔اس سوال کا جواب یہ ہے کہ گناہ جب بھی سرزد ہوگا؛ انسان گناہ گار اور قابل مواخذہ