صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 491 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 491

صحيح البخاری جلد ۳ ۴۹۱ ۲۷ - كتاب المحصر ہے۔ حج میں خصوصیت سے ان کی ممانعت کا یہ مفہوم نہیں کہ حج سے پہلے یا بعد یہ باتیں کی جاسکتی ہیں۔ یہ مراد ہے کہ بحالت احرام محارم کا خاص خیال رکھنا ہوگا۔ کیونکہ یہ باتیں حج کے خلاف ہیں اور اسے باطل کرنے والی ہیں اور جب وہ حج کر چکے تو اس کے بعد بھی اس حالت کو ہمیشہ قائم رکھے اور خدا تعالیٰ کے سامنے پاکیزہ حالت میں حاضر ہونے کا مقصد اعلیٰ جو حج میں سکھایا گیا ہے فراموش نہ کرے۔ کتنا مبارک ہے جو نہ کرے۔ کتنا مبارک ہے جو حج کا یہ تصور ایک مسلمان کے ذہن نشین کر وایا گیا ہے۔ ابواب کی ترتیب میں یہ امر ملحوظ ہے کہ مناسک حج میں جن فرو گذار رو گذاشتوں کا تدارک کفارہ اور فدیہ سے ہو سکتا ہے؟ ان کا ذکر کرنے کے بعد مؤخر الذکر دو باتوں میں وہ کوتاہیاں بیان کی گئی ہیں۔ جن کی تلافی کفارہ وفدیہ سے نہیں ہو سکتی۔ بلکہ تلافی صرف اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ ان محرمات سے ہمیشہ کے لئے قطعی طور پر اجتناب کیا جائے۔ ورنہ حج باطل ہوگا ۔ مذکورہ بالا معصیت کی باتیں ایسی باتیں ہیں جس کا تدارک کفارہ یا تعزیری کارروائی سے ممکن نہیں۔ ایمان عقیدہ اور تقوی کا تعلق قلبی شعور سے ہے جس کے ذریعے سے انسان کا تزکیہ نفس ہو سکتا ہے جو اصل مقصود ہے حج کا۔