صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 491
٢٧- كتاب المحصر صحيح البخاری جلد ۳ ہے۔حج میں خصوصیت سے ان کی ممانعت کا یہ مفہوم نہیں کہ حج سے پہلے یا بعد یہ باتیں کی جاسکتی ہیں۔یہ مراد ہے کہ بحالت احرام محارم کا خاص خیال رکھنا ہوگا۔کیونکہ یہ باتیں حج کے خلاف ہیں اور اسے باطل کرنے والی ہیں اور جب وہ حج کر چکے تو اس کے بعد بھی اس حالت کو ہمیشہ قائم رکھے اور خدا تعالیٰ کے سامنے پاکیزہ حالت میں حاضر ہونے کا مقصد اعلیٰ جوج میں سکھایا گیا ہے فراموش نہ کرے۔کتنا مبارک ہے جو ج کا یہ تصور ایک مسلمان کے ذہن نشین کروایا گیا ہے۔ابواب کی ترتیب میں یہ امر حوظ ہے کہ مناسک حج میں جن فرو گذاشتوں کا تدارک کفارہ اور فدیہ سے ہو سکتا ہے؛ ان کا ذکر کرنے کے بعد مؤخر الذکر دو باتوں میں وہ کوتاہیاں بیان کی گئی ہیں۔جن کی تلافی کفارہ وفدیہ سے نہیں ہوسکتی۔بلکہ تلافی صرف اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ ان محرمات سے ہمیشہ کے لئے قطعی طور پر اجتناب کیا جائے۔ورنہ حج باطل ہوگا۔مذکورہ بالا معصیت کی باتیں ایسی باتیں ہیں جس کا تدارک کفارہ یا تعزیری کارروائی سے ممکن نہیں۔ایمان عقیدہ اور تقوی کا تعلق قلبی شعور سے ہے جس کے ذریعے سے انسان کا تزکیہ نفس ہوسکتا ہے جو اصل مقصود ہے حج کا۔