صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 478
صحيح البخاری جلد ۳ MLA ٢٧- كتاب المحصر يَوْمُ النَّحْرِ وَأَهْدَى وَكَانَ يَقُوْلُ لَاَ کہتے تھے کہ اس وقت تک ( محرم ) احرام سے آزاد يَحِلُّ حَتَّى يَطُوْفَ طَوَافًا وَاحِدًا يَوْمَ نہیں ہوتا ؟ جب تک کہ ایک طواف (طواف زیارت ) يَدْخُلُ مَكَّةَ۔نہ کر لے؛ جس دن کہ مکہ میں داخل ہو۔اطرافه: ١٦٣٩، ١٦٤٠، ۱٦٩٣، ۱۷۰۸، ۱۸۰۶، ۱۸۰۸، ۱۸۱۰، ۱۸۱۲، ۱۸۱۳، ٤١٨٣، ٤١٨٤، ٤١٨٥ ۱۸۰۸: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ :۱۸۰۸ موسیٰ ابن اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ إِسْمَاعِيْلَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ جویریہ نے ہمیں بتایا۔نافع سے مروی ہے کہ حضرت بَعْضَ بَنِي عَبْدِ اللهِ قَالَ لَهُ لَوْ أَقَمْتَ عبداللہ کے بیٹوں میں سے بعض نے ان سے کہا: اگر بِهَذَا۔آپ اس سال ٹھہرے رہیں ( تو بہتر ہے۔) اطرافه : ١٦٣٩، ۱٦٤٠ ، ۱۹۹۳، ۱۷۰۸، ۱۸۰۶، ۱۸۰۷، ۱۸۱۰، ۱۸۱۲، ۱۸۱۳، ٤١٨٣، ٤١٨٤، ٤١٨٥ ۱۸۰۹ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۸۰۹: محمد نے ہم سے بیان کیا، کہا: بجلی بن صالح يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ نے ہمیں بتایا۔معاویہ بن سلام نے ہم سے بیان سَلَامٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ کیا۔حی بن ابی کثیر نے ہمیں بتایا کہ مکرمہ سے مروی عِكْرِمَةَ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ ہے۔انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا عَنْهُمَا قَدْ أُحْصِرَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روک دیئے گئے تو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَلَقَ رَأْسَهُ وَجَامَعَ آپ نے اپنا سر منڈوایا اور ازواج سے ازدواجی تعلق نِسَاءَهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ حَتَّى اعْتَمَرَ عَامًا قائم کیا اور قربانی ذبح کی۔یہاں تک کہ آئندہ سال قَابِلًا۔آپ نے عمرہ کیا۔تشریح : إِذَا أُحْصِرَ الْمُعْتَمِرُ : یہ باب بھی ایک اختلاف کے پیش نظر قائم کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ عمرہ چونکہ سارا سال کسی وقت بھی کیا جا سکتا ہے؛ اس لئے معتمر کو اگر کوئی عارضی روک ہو تو آیا وہ بحالت احرام رہ کر روک دور ہونے کا انتظار کرے یا نہ کرے۔حج کا وقت چونکہ معین ہوتا ہے؛ اس لئے حاجی معذوری کی وجہ سے احرام کھول فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ فقال ہے۔ابن حجر کے نزدیک بخاری کے تمام نسخوں میں اسی طرح ہے۔(فتح الباری جزء ۴ حاشیہ صفحہ کے نیز صفحه ۱)