صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 476 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 476

صحيح البخاری جلد۳ ٢٧- كتاب المحصر کر کے احرام کھولا جا سکتا ہے۔ائمہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمرہ سے استدلال کرتے ہیں جو واقعہ حدیبیہ میں ہوا۔کیونکہ آنحضرت ﷺ نے اس بندش کی وجہ سے جو دشمنوں نے پیدا کی تھی ؛ احرام نہیں کھولا ، جب تک قربانی نہ کر لی اور پھر دوسرے سال عمرہ کیا۔(تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء ۲ صفحه ۶،۵۔نیز عمدۃ القاری جز ء ۱۰ صفحه ۱۴۰) اس کتاب میں حج و عمرہ کے تعلق میں پہلے ان مسائل کا ذکر کیا گیا ہے جو استثنائی حالات سے تعلق رکھتے ہیں۔یعنی احرام باندھنے کے بعد معذوری کی وجہ سے روک پیدا ہو جائے۔یا بحالت احرام احکام کی پابندی میں کوتاہی ہو تو کیا کیا جائے۔چنانچہ قرآن مجید میں آیت فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ وَلَا تَحْلِقُوا رُؤُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ (البقرة: 19) کا تعلق اسی قسم کی روک سے ہے۔یعنی اگر تم رو کے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو ذبح کی جائے۔جب تک قربانی مقام تک نہ پہنچ جائے ؟ اپنے سر نہ مونڈو۔روک کے تعلق میں باقی ماندہ جو احکام ہیں ان کی تشریح باب نمبر ا سے ۸ تک کی گئی ہے اور موقع و مناسبت سے ائمہ کے اقوال میں جو اختلاف ہے اس کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔علاوہ احصار کے ان ابواب میں شکار کرنے کی ممانعت سے متعلق مسائل کا ذکر ہوگا۔دونوں مسئلوں میں اشتراک ادائیگی فدیہ وغیرہ کی وجہ سے ہے۔اس لئے وہ اکٹھے کر دیئے گئے ہیں۔بَابِ ١ : إِذَا أُحْصِرَ الْمُعْتَمِرُ 1 اگر عمرہ کرنے والا روکا جائے ١٨٠٦: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بنُ :۱۸۰۶: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا۔يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكَ عَنْ نَافِعِ أَنَّ عَبْدَ مالک نے ہمیں خبر دی کہ نافع سے مروی ہے۔حضرت اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حِيْنَ عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہا جب فتنہ کے ایام میں عمرہ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ مُعْتَمِرًا فِي الْفِتْنَةِ قَالَ کرنے کی غرض سے مکہ روانہ ہونے لگے تو انہوں نے إِنْ صُدِدْتُّ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْتُ كَمَا کہا: اگر بیت اللہ سے میں روکا گیا تو میں ویسے ہی صَنَعْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کروں گا؛ جیسے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وَسَلَّمَ فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّ ساتھ کیا تھا۔تو انہوں نے عمرہ کا لبیک پکار کر احرام رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ باندھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ۔کے سال عمرہ کا احرام باندھا تھا۔اطرافه: ١٦٣٩، ١٦٤٠، 1693، 1708، ۱۸۰۷، ۱۸۰۸، ۱۸۱۰، ۱۸۱۲، ۱۸۱۳، ٤١٨٣، ٤١٨٤، ٤١٨٥