صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 31 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 31

صحيح البخاری جلد ۳ ۳۱ ٢٤ - كتاب الزكاة بَاب ۹ : الصَّدَقَةُ قَبْلَ الرَّدِّ رد کئے جانے سے پہلے صدقہ دینا ١٤١١: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۱۴۱۱: آدم ( بن ابی ایاس ) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ (کہا:) شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا: ) حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ معبد بن خالد نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے حارثہ بن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ تَصَدَّقُوْا وہب سے سنا کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ فَإِنَّهُ يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَمْشِي الرَّجُلُ سے سنا۔ آپ فرماتے تھے: صدقہ کرو۔ کیونکہ تم پر بِصَدَقَتِهِ فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا يَقُوْلُ ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی اپنے صدقہ کو لئے الرَّجُلُ لَوْ جِئْتَ بِهَا بِالْأَمْسِ لَقَبِلْتُهَا پھرے گا اور وہ کسی کو نہیں پائے گا ئے گا جو اسے قبول فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَا حَاجَةَ لِي بِهَا ۔ کرے۔ آدمی کہے گا: اگر تو اسے کل لاتا تو میں اسے لے لیتا۔ مگر آج تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ اطرافه ١٤٢٤، ٧١٢٠۔ ١٤١٢ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۱۴۱۲: ابوالیمان (حکم بن نافع ) نافع ) نے ہم سے بیان کیا، شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنْ عَبْدِ (کہا:) شعیب نے ہم سے بیان کیا ۔ ( انہوں نے کہا: ) لله الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ ابوالزناد ( ذکوان ) نے عبدالرحمن ( بن ہرمزا عرج ) سے، عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عبد الرحمان نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت وَسَلَّمَ لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ کی ۔ انہوں نے کہا نبی ﷺ نے فرمایا: وہ گھڑی اس فِيكُمُ الْمَالُ فَيَفِيْضَ حَتَّى يَهُمَّ رَبَّ صلى الله وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ تم میں مال اس قدر زیادہ نہ ہو جائے کہ سیلاب کی طرح بہہ پڑے۔ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُ صَدَقَتَهُ وَحَتَّى يَعْرِضَهُ یہاں تک کہ مال دار کو ایسے شخص کی تلاش ہوگی جو اس فَيَقُوْلَ الَّذِي يَعْرِضُهُ عَلَيْهِ لَا أَرَبَ لِي کا صدقہ قبول کرے اور یہاں تک کہ جس کے سامنے پیش کرے گا وہ کہے گا : مجھے کوئی ضرورت نہیں۔ اطرافه ٥، ١٠٣٦، ٣٦٠٨ ، ٤٦٣٥ ، ٤٦٣٦ ، 6037، 6506، 6935، 7061، ۷۱۲۱ ،۷۱۱۰