صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 430 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 430

صحيح البخاری جلد ۳ ۴۳۰ ٢٥ - كتاب الحج ١٧٥٦ : حَدَّثَنَا أَصْبَعُ بْنُ الْفَرَجِ ۱۷۵۶ اصبغ بن فرج نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ ابن وہب نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے عمرو بن الْحَارِثِ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حارث سے، انہوں نے قتادہ سے روایت کی کہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى حضرت انس بن مالک رضی اللہ ابن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ اور اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ في صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر اور مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھیں۔ پھر محصب میں تھوڑ اسا سوئے۔ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ ثُمَّ رَقَدَ رَقْدَةً پھر آپ سوار ہو کر بیت اللہ کی طرف گئے اور اس بِالْمُحَصَّبِ ثُمَّ رَكِبَ إِلَى الْبَيْتِ کا طواف کیا۔ عمرو بن حارث کی طرح لیٹ نے بھی فَطَافَ بِهِ۔ تَابَعَهُ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي خَالِدٌ یہی بات بیان کی۔ (کہا) کہ خالد نے مجھے بتایا۔ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ انہوں نے سعید سے، سعید نے قتادہ سے روایت کی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى که حضرت انس بن مالک مالک رضی اللہ عنہ نے اُن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت روایت کرتے ہوئے یہ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ اطرافه: ١٧٦٤ بیان کیا۔ تشريح : طَوَافُ الْوَدَاعِ : طواف الوداع مکہ مکرمہ سےلوٹتے وقت کیا جاتا ہے اوراس کے تعلق علماءمیں یہ اختلاف ہے کہ آیا یہ واجب ہے جس کے ترک کرنے پر فدیہ لازم آئے گا یا سنت؟ اکثر ائمہ نے اسے واجب قرار دیا ہے اور نہ کرنے پر قربانی لازم مجھی ہے۔ مگر امام مالک وغیرہ کے نزدیک سنت ہے اور اگر نہ کیا جائے تو فدیہ قربانی لازم نہیں آتا ۔ ( فتح الباری جز ۳۰ صفحہ ۷۳۹) امام بخاری نے باب کا عنوان طواف الوداع قائم کر کے اس میں کسی فیصلہ کا اظہار نہیں کیا۔ البتہ روایت نمبر ۱۷۵۵ میں دو باتوں کا ذکر ہے۔ 1) أَمِرَ النَّاسُ یعنی لوگوں کو حکم ہوا ۔ (۲) خُفِّفَ عَنِ الْحَائِضِ ۔ یعنی حائضہ سے تخفیف کی گئی ہے۔ یہ دونوں فقرے وجوب پر دلالت کرتے ہیں اور روایت نمبر ۷۵۶ اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ظاہر ہے۔ چونکہ ان دونوں روایتوں میں طواف الوداع کے ترک ہو جانے پر کسی فدیہ کا ذکر نہیں ۔ اس لئے امام بخاری نے عنوانِ باب میں خاموشی اختیار کی ہے۔