صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 424
صحيح البخاری جلد ۳ ٢٥ - كتاب الحج رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِيْنَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس وقت فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ حَتَّى إِذَا حَاذَی تھے جب انہوں نے جمرہ عقبہ پر رمی کی تو وہ وادی کے بِالشَّجَرَةِ اعْتَرَضَهَا فَرَمَى بِسَبْعِ نشیب میں گئے ۔ یہاں تک کہ جب اس درخت کے حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ قَالَ برابر ہوئے تو اس کو سامنے رکھا اور پھر سات کنکریاں مِنْ هَاهُنَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ قَامَ الَّذِي پھینکیں۔ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے اور پھر أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُوْرَةُ الْبَقَرَةِ صَلَّى الله کہا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہاں سے کھڑے ہو کر ) رمی کی تھی ، اس ذات نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ اطرافه: ١٧٤٧، 1748، 1749۔ جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ بَاب ۱۳۹ : مَنْ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ وَلَمْ يَقِفْ جمرہ عقبہ پر جس نے کنکریاں پھینکیں اور وقوف نہ کیا قَالَهُ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ سے یہ روایت نقل کی ہے۔ ☆ بَاب ١٤٠ : إِذَا رَمَى الْجَمْرَتَيْنِ يَقُوْمُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَيُسْهِلُ جب دونوں جمروں پر رمی کرے تو کھڑا ہو اور میدان میں جا کر قبلہ رو ہوں ☆ ١٧٥١ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي ۱۷۵۱: عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ طلحہ شَيْبَةَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا بن يحي نے ہمیں بتایا۔ یونس نے ہم سے بیان کیا۔ يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ انہوں نے زہری سے، زہری نے سالم سے، انہوں عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَرْمِي نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ الْجَمْرَةَ الدُّنْيَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ والے جمرہ پر سات کنکریوں سے رمی کرتے تھے۔ ہر عمدۃ القاری میں عنوان باب کے الفاظ یہ ہیں "إِذَا رَمَى الْجَمْرَتَيْنِ يَقُوْمُ وَيُسْهِلُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ (عمدة القارى جزء اصفحه (۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔