صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 417 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 417

صحيح البخاری جلد ۳ ۴۱۷ ٢٥ - كتاب الحج بَاب ١٣٤ : رَمْيُ الْحِمَارِ کنکریاں پھینکنا وَقَالَ جَابِرٌ رَمَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ اور حضرت جابرؓ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى وَرَمَى کے دن چاشت کے وقت رمی کی اور اس کے بعد بَعْدَ ذَلِكَ بَعْدَ الزَّوَالِ۔ آپ نے سورج ڈھلنے پر رمی کی ۔ ١٧٤٦: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۱۷۴۶: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا۔ مسعر نے مِسْعَرٌ عَنْ وَبَرَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ہمیں بتایا کہ وبرہ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مَتَى أَرْمِي الْجِمَارَ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ میں قَالَ إِذَا رَمَى إِمَامُكَ فَارْمِهُ فَأَعَدْتُ کنکریاں کب پھینکوں؟ انہوں نے کہا: جب تیرا امام رمی کرے تو تو بھی رمی کریں کر میں نے یہ ے یہ مسئلہ ان سے عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ قَالَ كُنَّا نَتَحَيَّنُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ رَمَيْنَا ۔ دوبارہ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم وقت کا انتظار کرتے؛ جب سورج ڈھل جاتا تو ہم رمی کرتے ۔ تشریح : رمي الجار لے جایا جا چکا ہےکہ ارکان حج واجب میں پانچ ہیں۔ احرام میں طواف وسعى بن الصفا والمروة ، وقوف عرفات اور قربانی ۔ اب یہاں سے ان امور کا ذکر شروع ہے جو رکن تو نہیں، مگر حج کا ضروری حصہ ہیں۔ مثلا رمی ( یعنی تین ڈھیریوں پر کنکریاں پھینکنا ) حلق یا قصر، سر منڈانا یا جسے بال کتروانا۔ منی میں تین ٹیلے ہیں۔ جنہیں جمرات کہتے ہیں۔ جمرہ کے لغوی معنی ہیں کنکریوں کی ڈھیری اور اس کے ایک معنی اجتماع اجتماع ، لوگوں کا اکٹھا ہو کر کسی بات پر اتفاق کرنا بھی ہیں۔ (عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۹۰) یہ ڈھیریاں تین ہیں۔ پہلی جمرۃ الاولی جو سب سے چھوٹی ہے اور دوسری جمرہ وسطی یعنی درمیانی ڈھیری اور جمرہ عقبہ جو مشرق کی طرف۔ رف ہے اور سب سے بڑی ہے۔ یہ معنی کا حصہ نہیں ہیں۔ بلکہ اس کی آخری حد ہے، جب مکہ مکرمہ سے آیا جائے اور یہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے انصار نے بیعت کی تھی کہ اگر آپ مدینہ تشریف لائیں تو وہ آپ کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت میں ہر طرح مدد کریں گے اور یہ ایک اہم تاریخی واقعہ ہے۔ (معجم البلدان، باب العين والقاف - عقبة ) روایات میں آتا ہے کہ یہاں شیطان وسواس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش کی مگر وہ کامیاب نہ ہوا۔ (تفسیر القرطبي، سورة البقرة ، آیت ۱۲۹: رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ، جزء ۲ صفحہ ۱۲۹) حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش اور آپ کا اس آزمائش میں پورا اُترنے کا ذکر آیت وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۔ (البقرة : ۱۲۵) میں ہے۔ منی کی آخری حد میں