صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 401
صحيح البخاری جلد ۳ لدها ٢٥ - كتاب الحج وَلِلْمُقَصِّرِينَ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ کو بھی ۔ فرمایا: اے اللہ ! سرمنڈوانے والوں کو بخش ۔ لِلْمُحَلِّقِينَ قَالُوْا وَلِلْمُقَصِّرِيْنَ قَالَهَا انہوں نے کہا: اور بال کتروانے والوں کو بھی۔ آپ نے (سرمنڈوانے والوں کے لیے ) تین بار فرمایا۔ ثَلَاثًا قَالَ وَلِلْمُقَصِّرِينَ۔ پھر فرمایا: بال کتروانے والوں کو بھی ۔ ۱۷۲۹ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ ۱۷۲۹ : عبد عبد الله مد بن محمد بن اسماء نے ہم سے بیان کیا ابْنِ أَسْمَاءَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ کہ جویریہ بن اسماء نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع عَنْ نَّافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ حَلَقَ النَّبِيُّ سے روایت کی کہ حضرت عبدالله ( بن؟ عمر ) نے کہا: نبی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَائِفَةٌ مِّنْ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ میں سے ایک گروہ نے سر منڈوایا اور ان میں سے بعض نے بال أَصْحَابِهِ وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ۔ اطرافه ١٧٢٦، 4410، 4411۔ کتروائے۔ ۱۷۳۰ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ ۱۷۳۰: ابو عاصم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے جُرَيْجٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ ابن جریج سے، انہوں نے حسن بن مسلم سے، حسن طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ نے طاؤس سے، طاؤس نے حضرت ابن عباس سے، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ فَصَّرْتُ عَنْ حضرت ابن عباس نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ بِمِشْقَص۔ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ایک بڑی قینچی سے کترے۔ تشريح : الْخَلْقُ وَالتَّقْصِيرُ عِندَ الْإِحْلالِ : حلق یا قصیر کے بارہ میں ایک اختلافی بھی ہے کہ آیا یہ مناسک حج میں سے ہیں یا مباحات میں سے یعنی ایسے امور جن کا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہے۔ جمہور کے نزدیک یہ مناسک حج میں سے ہے۔ جس کی طرف امام بخاری نے عنوانِ باب میں عِنْدَ الإِحْلَالِ کے الفاظ سے اشارہ کیا ہے۔ یعنی احرام کھولنے پر۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے بھی ظاہر ہے کہ آپ نے حج کی قبولیت میں حلق یا قصر دونوں کو شامل فرمایا ہے۔ دعا کا تعلق ثواب سے ہے اور ثواب عبودیت پر ہوتا ہے۔ اگر یہ صورت صرف مباح ہوتی تو مباحات میں ایک مباح شے کو دوسری مباح شے پر فضیلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے ظاہر ہے کہ حلق کو قصر پر فضیلت ہے۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۷۰۹ )