صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 326
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۲۶ ٢٥ - كتاب الحج رَجُلٍ طَافَ بِالْبَيْتِ فِي عُمْرَةٍ وَلَمْ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اس شخص کی نسبت يَطْفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَيَأْتِي دریافت کیا جو عمرہ میں بیت اللہ کا طواف کرے اور امْرَأَتَهُ فَقَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ صفا و مروہ کے درمیان طواف نہ کرے؛ کیا وہ اپنی بیوی وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَصَلَّی سے مباشرت کر سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: نبی ﷺ خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ فَطَافَ بَيْنَ ( مکہ میں ) آئے۔ آپ نے بیت اللہ کا سات بار طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا۔ لَقَدْ كَانَ پڑھی اور صفا و مروہ کے درمیان ساتھ پھیرے کئے اور لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تمہارے لئے عمدہ نمونہ (الأحزاب: ۲۲) ہے۔ اطرافه ۳۹۵، ١٦۲۳، ١٦٢٧، 1647، 1793۔ ١٦٤٦ : وَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ۱۶۴۶: اور ہم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ لَا يَقْرَبَنَّهَا حَتَّى عنہا سے پوچھا تو انہوں نے کہا: اپنی بیوی کے پاس يَطُوْفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ۔ نہ جائے جب تک کہ صفا ومروہ کا طواف نہ کرے۔ اطرافه ٣٩٦، ١٦٢٤، ١٧٩٤ ۔ ١٦٤٧ : حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۱۶۴۷: مکی بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ ابن جریج عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: عمرو بن دینار نے دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ مجھے بتایا، کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نا کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں آئے اور وَسَلَّمَ مَكَّةَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ صَلَّی آپ نے بیت اللہ کا طواف کیا۔ پھر دو رکعت نماز رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ پڑھی۔ پھر صفا اور مروہ کے درمیان دوڑے۔ پھر ثُمَّ تَلَا : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي (حضرت عبداللہ نے ) یہ آیت پڑھی: لَقَدْ كَانَ رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔ (الأحزاب: ۲۲) لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔ اطرافه ٣٩٥، ١٦٢٣، ١٦٢٧، 1645، 1793۔